உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے المنائی فیصل عابدی اور راغب خان کو ٹیک سروسز اینڈ پروڈکٹس ارینا میں عالمی شناخت ملی

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے المنائی فیصل عابدی اور راغب خان کو ٹیک سروسز اینڈ پروڈکٹس ارینا میں عالمی شناخت ملی

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے المنائی فیصل عابدی اور راغب خان کو ٹیک سروسز اینڈ پروڈکٹس ارینا میں عالمی شناخت ملی

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انجینئرنگ کے دونوں گریجویٹ (الیکڑانکس اینڈ کمیونی کیشن 2007) فیصل عابدی اور راغب خان  اپنی کمپنی آراین ایف کی مدد سے تکنیکی خدمات اور پروڈکٹس کے انتہائی سخت مقابلہ جاتی میدان میں اپنی پہچان بنارہے ہیں۔ دنیا بھر میں کثیر دفاتر والی یہ بوٹ اسٹریپڈ کمپنی ساڑھے چارسو سے زیادہ ملازمین اور دو پچا س سے زیادہ کلائنٹس کے ساتھ واقعی  ایک ملٹی نیشنل کمپنی بن چکی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے المنائی فیصل عابدی اور راغب خان کے مشترکہ کام آراین ایف ٹکنالوجیز جو جدت و اختراعیت سے آراستہ تکنیکیی خدمات اور پروڈکٹس کمپنی فراہم کرنے والی کمپنی ہے اسے امریکہ کے موقر مارکیٹ تحقیق کی کمپنی ’کلچ‘ نے Top-Performing App Development Companies for 2021میں سے اسے ایک بتایا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انجینئرنگ کے دونوں گریجویٹ (الیکڑانکس اینڈ کمیونی کیشن 2007) اپنی کمپنی آراین ایف کی مدد سے تکنیکی خدمات اور پروڈکٹس کے انتہائی سخت مقابلہ جاتی میدان میں اپنی پہچان بنارہے ہیں۔ دنیا بھر میں کثیر دفاتر والی یہ بوٹ اسٹریپڈ کمپنی ساڑھے چارسو سے زیادہ ملازمین اور دو پچا س سے زیادہ کلائنٹس کے ساتھ واقعی  ایک ملٹی نیشنل کمپنی بن چکی ہے۔

    آراین ایف نے2009 میں اپنے آغاز کے ساتھ ہی مستقل ترقی کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے موبائل اور ویب اپلی کیشن کے فروغ اور اپنی مہارت کے ساتھ ڈیجیٹل مارکیٹنگ پیشکش سے پورے شمالی امریکہ میں اپنی شناخت قائم کرلی ہے۔ فیصل اور راغب کے لئے آر این ایف ٹکنالوجیز کا خیال اور تصور یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ذہن میں پلنے لگا تھا۔ اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ان دونوں نے روزگار کے پیچھے بھاگنے سے زیادہ روزگارکے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی۔ گریجویشن کی تکمیل کے دوسال کے اندر ہی آراین ایف کے قیام سے پہلے انھوں نے گوگل اور AOL میں علی الترتیب کام کیا تا کہ کام کا اچھا تجربہ ہوجائے۔
    ”آر این ایف ٹکنالوجیز ہمارے خوابوں کا نتیجہ ہے، جو ہم نے کالج کے ایام میں دیکھا تھا۔ ہماری شدید خواہش تھی کہ ہم خود مختار ہوں اور ایسی حالت میں ہوں کہ تبدیلی لاسکیں۔ ہم نے روایتی انداز کی ملازمت کی تلاش کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہے۔ جہان نادیدہ کے اپنے خطرات تھے، لیکن ہمیں اس سے کبھی ڈر لگا۔ “فیصل نے کہا جنھوں نے مذکورہ تنظیم کی خدمات کی شروعات کی تھی۔

    فیصل اور راغب کے لئے آر این ایف ٹکنالوجیز کا خیال اور تصور یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ذہن میں پلنے لگا تھا۔ اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ان دونوں نے روزگار کے پیچھے بھاگنے سے زیادہ روزگارکے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی۔
    فیصل اور راغب کے لئے آر این ایف ٹکنالوجیز کا خیال اور تصور یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ذہن میں پلنے لگا تھا۔ اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ان دونوں نے روزگار کے پیچھے بھاگنے سے زیادہ روزگارکے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی۔


    کمپنی کی غیر معمولی کامیابی سے ہمت وحوصلہ پاکر کالج کے دنوں کے دونوں دوست جو اب کاروبار کے بھی ساتھی ہیں، انھوں نے سسٹر براڈ Phonato اسٹوڈیو کے ساتھ مل کر 2013 میں گیم بنانے کے میدان میں ہاتھ آزمانا شروع کیا۔ پھوناٹو اسٹوڈیوس ان چند ہندوستانی کمپنیوں میں سے ایک کمپنی ہے، جو ان بڑی عالمی کمپنیوں کو اس میدان میں چیلنج کررہی ہے۔ ہندوستانی ڈولپرس،خاکہ سازوں اور صوتی فن کاروں کی ان ہاؤس ٹیم نے اس کا تصور، خاکہ اورتیاری سارا کام کیا ہے۔ اس کمپنی نے جو گیمس تیارکئے ہیں انھیں ایپل اسٹور اور گوگل پلے اسٹور سے 10 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا ہے اور ڈاؤن لوڈبھی کیا گیا ہے۔
    پھوناٹواسٹوڈیوس اور تحریک زا سفر کے متعلق راغب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ٹیم کا سفر اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ جذبہ سے بھرپور لوگوں کی جماعت کس طرح گیمنگ جیسے میدان میں برقرار رہ سکتی ہے اور بہتر کرسکتی ہے۔ ہم نے تصور، خاکہ، تیاری اور اپنے صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حل فراہم کرنے کے مقصد سے ہم نے شروعات کی تھی۔ امتداد وقت کے ساتھ ہمیں خود کو بہتر سے بہترٹکنالوجی سے آراستہ کرتے رہنا ہے اور ہم نے وہی کیا ہے۔“
    یہ دونوں پھوناٹو اسٹوڈیوسز تک ہی محدود نہیں رہے۔ Resourcifiنام کے ایک پروجیکٹ کے ساتھ وہ میدان میں  پھر سے آئے ہیں۔ اس کا کام بیرون ممالک سے انسانی وسائل کو اجرت پر رکھ کر اپنے صارفین کی ضرورت کے مطابق اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے 2018 میں B2B پروگرام صنعت کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور مختلف بڑی صنعتی اکائیوں کے لیے کانفرنسیز منعقد کیے ہیں۔ دبئی، یو اے ای او رلاس ویگس امریکہ میں بھی کانفرنسزکا انعقاد ہوا ہے۔ صنعت کے سرکردہ رہنماؤں نے عالمی سطح پر ان پروگراموں کی تعریف کی اور اہم فیصلہ سازوں (CXOs,Presidents,Founders) کو بغیر کسی مدد کے بلانے کی قابلیت و لیاقت کی تعریف کی کیوں کہ اندرون خانہ اس صلاحیت کے فقدان کا احساس ہے۔ تنظیم کے لیے راغب خان اور فیصل عابدی کے پاس مہم جویانہ منصوبے ہیں۔ انھیں توقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر اور بھی زیادہ اپنی موجودگی درج کرانے میں کامیاب ہوں گے اور تکنیک اساس خدمات اورپروڈکٹس کی رینج میں توسیع کرتے ہوئے ایک دوسرا پروگرام بھی شروع کرنے والے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: