உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دلی پولیس کا دعویٰ، جامعہ میں احتجاجی مظاہرے کے ملے اہم ثبوت، جلد ہو گی کارروائی

    سی اے اے اور این آر سی کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ کے باہر احتجاج کا ایک منظر ۔ تصویر : پی ٹی آئی: فائل فوٹو

    سی اے اے اور این آر سی کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ کے باہر احتجاج کا ایک منظر ۔ تصویر : پی ٹی آئی: فائل فوٹو

    جانچ سے وابستہ ایک آفیسر نے بتایا ’’ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جن کا انکشاف مناسب وقت آنے پر کیا جائے گا‘‘۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ دہلی پولیس نے نئے شہریت قانون ( سی اے اے) کے خلاف جامعہ نگر میں پچھلے دنوں ہوئے تشدد اور احتجاجی مظاہرے کے آغاز کی وجوہات کا پتہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ پولیس جانچ کے لئے خفیہ ایجنسیوں سے بھی مدد لے رہی ہے۔ دلی پولیس نے اس کے پیچھے پاپولر فرنٹ آف انڈیا ( پی ایف آئی) پر شک ظاہر کیا ہے جس کا دفتر دہلی کے شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ اور بٹلہ ہاؤس علاقہ میں سے کسی ایک جگہ موجود ہے۔

      فائل فوٹو


      جانچ سے وابستہ ایک آفیسر نے بتایا  ’’ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جن کا انکشاف مناسب وقت آنے پر کیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے جامعہ نگر اور لکھنئو کے ندوہ میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے بعد جب سے پی ایف آئی کا نام کھل کر سامنے آیا ہے اس کے کئی لوگوں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ جبکہ کئی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تب سے اس فرنٹ کے ہزاروں کارکنان روپوش ہو گئے ہیں۔ حالانکہ، حکومت کو کارروائی کرنے کے لئے حتمی رپورٹ کا انتظار تھا۔

      آفیسر کے مطابق، یہ احتجاجی مظاہرہ دہلی میں اس لئے کیا گیا کیونکہ کارکنان جانتے تھے کہ میڈیا میں آنے کی وجہ سے یہ زیادہ لوگوں کی نظروں میں آئے گا جس سے اسے پھیلنے میں مدد ملے گی۔ خفیہ ایجنسی کے آفیسر نے کہا کہ وہ کافی ثبوت اکھٹا کر چکے ہیں اور صحیح وقت پر کارروائی کریں گے۔
      First published: