உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کو WCDM۔ڈیزاسسٹر رسک ریڈکشن ایکسی لینس ایوار ڈملا

    جامعہ ملیہ اسلامیہ

    جامعہ ملیہ اسلامیہ

    Jamia Millia Islamia: آئے دن وقوع پذیر ہونے والی آفات سماوی اور دنیا بھر میں قدرتی آفات کے بحران سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جو تحقیق،تدریس اور تربیت دی جاتی ہے اسی کے اعتراف میں یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔         

    • Share this:
    جامعہ ملیہ اسلامیہ (ناک سے اے پلس پلس توثیق شدہ مرکزی یونیورسٹی)کو آفات سماوی سے متعلق بندوبست کے مختلف شعبوں میں غیر معمولی خدمات کی وجہ سے ڈزاسسٹر رسک ریڈکشن ایکسے لینس ایوارڈ (ڈبلیو سی ڈی ایم۔ڈی آرآرایوارڈ)ملا ہے۔ ایک اہم تنظیم ورلڈ کانگریس آن ڈیزاسٹر مینجمنٹ (ڈبلیو سی ڈی ایم) نے جامعہ کو یہ ایوارڈ انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (آئی آئی سی) میں مؤرخہ بائیس جون دوہزاربائیس کو منعقدہ ڈبلیو سی ڈی ایم ڈی آرآر ایوارڈ تقریب میں دیا تھا۔ پروفیسر نجمہ اختر،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر ناظم حسین اورالجعفری نے پروگرام کے مہمان خصوصی جناب جی کرشنا ریڈی،عزت مآب مرکزی وزیر برائے سیرو سیاحت، تہذیب وبہبود برائے شمال مشرقی خطہ،حکومت ہند کے دست مبارک سے یہ ایوارڈ لیا۔

    آئے دن وقوع پذیر ہونے والی آفات سماوی اور دنیا بھر میں قدرتی آفات کے بحران سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جو تحقیق،تدریس اور تربیت دی جاتی ہے اسی کے اعتراف میں یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ایوارڈ تقریب میں پروفیسر ابراہیم،ڈین،فیکلٹی آف انجینرئنگ اینڈ ٹکنالوجی،پروفیسر عتیق الرحمان،چیف پراکٹر اور پروفیسر سراج الدین احمد،انچارچ شعبہ ماحولیاتی سائنسزجامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی شرکت کی۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں قومی و بین الاقوامی ممتاز شخصیات،سانئس داں،محققین،پالیسی ساز،ڈاکٹر اور وکلا بھی موجود تھے۔



    Donkey Milk Farming: انجینئر نے نوکری چھوڑ کھولی گدھی کے دودھ کی ڈیری، لاکھوں ہورہی کمائی

    ڈبلیو سی ڈی ایم،ڈی ایم آئی سی ایس کی ایک انوکھی پہل ہے۔اس میں وہ دنیا بھر سے تحقیق سے وابستہ لوگوں کو،پالیسی سازوں کو اور ڈاکٹروں کو ڈزاسسٹر رسک مینجمنٹ کے مختلف صبر آزما مسائل و معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔علم الانسان اور قدرتی آفات بندوبست سے متعلق یہ سب سے بڑی تنظیم ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: