ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ کے اقلیتی کردار کے خلاف مرکز کا حلف نامہ عدالت میں صحیح ثابت نہیں ہوا

نئی دہلی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ملے اقلیتی یونیورسٹی کے درجہ کے خلاف کچھ دن پہلے مرکزی حکومت کی طرف سے دائر حلف نامے کو دہلی ہائی کورٹ نے کورٹ ریکارڈ میں قبول (حلف نامے کو) کرنے کے آرڈر کو واپس ( ری کال) لے لیا ہے۔

  • Share this:
جامعہ کے اقلیتی کردار کے خلاف مرکز کا حلف نامہ عدالت میں صحیح ثابت نہیں ہوا
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے فیصلہ کیا ہےکہ اس بار نئے سال کا تعلیمی سیشن ستمبر سے شروع ہوگا۔ فائل فوٹو

نئی دہلی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ملے اقلیتی یونیورسٹی کے درجہ کے خلاف کچھ دن پہلے  مرکزی حکومت کی طرف سے دائر حلف نامے کو دہلی ہائی کورٹ نے کورٹ ریکارڈ میں قبول (حلف نامے کو) کرنے کے آرڈر کو واپس ( ری کال) لے لیا ہے۔ یعنی اب مرکزی حکومت کی طرف سے جامعہ کے اقلیتی درجہ کو  قبول نہ کرنے کو لے کر عدالت میں دائر کردہ حلف نامہ قابل قبول نہیں ہے۔


کورٹ نے حلف نامہ کو قبول کرنے والے اپنے آرڈر کو اس لئے ری کال کیا ہے کیونکہ مرکز نے کورٹ میں یہ حلف نامہ لگانے سے پہلے جامعہ سمیت کیس سے منسلک کسی بھی پارٹی کو حلف نامے کی نہ تو کاپی دی نہ پیشگی نوٹس۔


اس کے خلاف جامعہ نے کورٹ میں عرضی داخل کی کہ  اسے بغیر بتائے یہ حلف نامہ داخل کیا گیا ہے، جو قانونی طور پر بڑی غلطی ہے، لہذا کورٹ اسے ری کال کرے۔ عدالت اب اس معاملہ کی اگلی سماعت 14 اگست کو کرے گی۔


خرم شہزاد کی رپورٹ


 

First published: Apr 25, 2018 08:33 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading