உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہریت ترمیمی قانون : طلبہ نے جامعہ بند کو کیا ختم ، یونیورسٹی میں پانچ جنوری تک چھٹی

    جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے احتجاج کا ایک منظر ۔ تصویر : نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

    جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے احتجاج کا ایک منظر ۔ تصویر : نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے نئے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف یونیورسٹی بند کو ہفتہ کو ختم کردیا ۔ اس سے ایک دن پہلے کمپلیکس میں پرتشدد احتجاج ہوا تھا ۔

    • Share this:
      جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے نئے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف یونیورسٹی بند کو ہفتہ کو ختم کردیا ۔ اس سے ایک دن پہلے کمپلیکس میں پرتشدد احتجاج ہوا تھا ۔ وہیں یونیورسٹی انتظامیہ نے کشیدگی کے پیش نظر امتحانات کو رد کرکے پانچ جنوری تک چھٹیوں کا اعلان کردیا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ جن لوگوں نے جمعہ کو تشدد کیا اور پولیس کے ساتھ جھڑپ کی وہ باہری تھے ، طلبہ نہیں تھے ۔

      جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ ، اساتذہ اور سابق طلبہ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج کرنے کیلئے کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون بھید بھاو سے بھرا ہوا ہے ۔

      قانون کی مخالفت میں طلبہ نے جمعہ کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ نکالنے کی کوشش کی تھی ، جس کے بعد پولیس اور طلبہ میں جھڑپ ہوگئی ، جس کی وجہ سے یونیورسٹی ایک طرح سے میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی ۔ طلبہ نے ہفتہ کو یونیورسٹی بند کی اپیل کی تھی اور امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا ۔

      جامعہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ سبھی طرح کے امتحانات ملتوی کردئے گئے ہیں اور بعد میں نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا ۔ 16 دسمبر سے پانچ جنوری تک تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی چھ جنوری کو دوبارہ کھلے گی ۔

      یونیورسٹی کے ایک 25 سالہ طالب علم نہال اشرف نے کہا کہ امتحان سر پر تھا ، لیکن اس کو رد کردیا گیا ۔ اگر ملک میں کچھ غلط ہوتا ہے تو جامعہ اپنی آواز اٹھائے گا ۔ ہم نے کلاس اور امتحانات کا بائیکاٹ کیا ہے ، ہم لوگ اپنے حقوق کیلئے بار بار مارچ نکالتے رہیں گے ۔
      First published: