ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ تشدد: دہلی پولیس کے خلاف ایف آئی آر کو لے کر طلبہ کا گھیراؤ، وی سی بولیں۔ کل سے شروع کریں گے عمل

غورطلب ہے کہ 15 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے کے بعد جامعہ کیمپس میں گھس کر پولیس نے لائبریری میں توڑپھوڑ کی تھی اور طلبہ کو بے دردی سے پیٹا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 13, 2020 06:32 PM IST
  • Share this:
جامعہ تشدد: دہلی پولیس کے خلاف ایف آئی آر کو لے کر طلبہ کا گھیراؤ، وی سی بولیں۔ کل سے شروع کریں گے عمل
جامعہ کی وی سی پروفیسر نجمہ اختر

نئی دہلی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ (Jamia Millia Islamia ) کی وائس چانسلر (وی سی) پروفیسر نجمہ اختر (Najma Akhtar) نے پیر کو کہا کہ جامعہ نے طلبہ پر ہوئی وحشیانہ پولیس کاروائی کے خلاف معاملہ درج کروانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروفیسر اختر نے یہاں ان کا گھیراؤ کرنےکے مقصد سے آنے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 15 دسمبر کا واقعہ وحشیانہ تھا۔ پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کا عمل کل سے شروع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس بغیر انتظامیہ کی اجازت کے کیمپس میں داخل ہوئی اور یہاں کے بے گناہ طلبہ کو بے رحمی کے ساتھ زدوکوب کیا،وہ پہلے دن سے ہی اس واقعہ کی مذمت کر رہی ہیں۔ طلبہ کے حق میں پولیس کے خلاف قانونی لڑائی جاری رہےگی۔



حالانکہ طلبہ پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کی تاریخ کے مطالبے پر بضد ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وی سی انھیں ایک متعین تاریخ بتائیں کہ وہ کب کورٹ میں جائیں گی اور کب ایف آئی آر درج کروائی جائے گی۔ وی سی نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے مسئلے پر وہ کچھ نہیں بولیں گی۔

جامعہ کے طلبہ نے گھیرا تو وی سی بولیں۔ کل سے شروع کریں گے ایف آئی آر کا عمل


غورطلب ہے کہ 15 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے کے بعد جامعہ کیمپس میں گھس کر پولیس نے لائبریری میں توڑپھوڑ کی تھی اور طلبہ کو بے دردی سے پیٹا تھا۔ بعد ازاں جامعہ انتظامیہ نے پانچ جنوری تک چھٹی کا اعلان کر دیا تھا تاہم اس دوران بھی کیمپس کے باہر طلبہ اور مقامی عوام شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کےخلاف مسلسل مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چھ جنوری کو دوبارہ جامعہ کھلا اور 09 جنوری سے سیمسٹر امتحانات کا اعلان کر دیا گیا لیکن پولیس کے خلاف قانونی کاروائی کےمطالبے پر آج طلبہ نے امتحان کا بائیکاٹ کرکے وی سی کی حصاربندی کی۔ قابل ذکر ہے کہ آئین کے تحفظ میں خواتین پیش پیش ہیں اور ان کا جذبہ ناقابل تسخیرہے۔
First published: Jan 13, 2020 03:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading