ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تحقیق و تعلیم اور علم پر مبنی معاشرے کی تشکیل ضروری : پروفیسر طلعت احمد

جامعہ ملیہ اسلامیہ تعلیم کا بہتر ماحول فراہم کرتا ہے اور طلبہ یہاں کے ماحول سے بہت سیکھتے ہیں، آگے بڑھتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں۔ ان کی مثال یہ جامعہ دو الومنائی ہاردک مہتہ اور انشل مہروترا ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 02, 2016 05:28 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تحقیق و تعلیم اور علم پر مبنی معاشرے کی تشکیل ضروری : پروفیسر طلعت احمد
جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد: فائل فوٹو

نئی دہلی : تحقیق و تعلیم اور علم پر مبنی معاشرے کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسرطلت احمد نے کہا کہ طلبہ کو اپنے تعلیم کے دوران اپنے دماغ میں اٹھنے والے سوالات کو دبانا نہیں چاہئے بلکہ اساتذہ سے اس کاحل معلوم کرنا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے جامعہ الومنائی فلم ساز ہاردک مہتہ اور بین الاقوامی فوٹوگرافر انشل مہروترا کی عزت افزائی کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ تعلیم کا بہتر ماحول فراہم کرتا ہے اور طلبہ یہاں کے ماحول سے بہت سیکھتے ہیں، آگے بڑھتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں۔ ان کی مثال یہ جامعہ دو الومنائی ہاردک مہتہ اور انشل مہروترا ہیں۔انہوں نے اپنے شعبے میں اپنا نام پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جامعہ کا ماس کمیونی کیشن ملک میں سرفہرست ہے۔ یہاں کے فارغین میڈیا کی دنیا میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔

پروفیسر طلعت نے ایسی تعلیم پر زور دیا جس سے معاشرے کو فائدہ ہو۔اگر کسی تعلیم سے معاشرے کا بھلا نہیں ہورہا ہے تو ایسی تعلیم سے کیا فائدہ۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یہاں انسانی اقدار ور مبنی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے خواہ وہ انجینئرنگ کی تعلیم ہو یا دیگر تعلیم۔

وائس چانسلر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو تمام طرح کی تعلیم کے لئے سازگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کا ماحول بہت اچھا ہے، یہاں کھیل کود کی تمام سہولتیں موجود ہیں اور اس کے لئے اسپورٹ کمپلکس ہے، طلبہ کو کھانے پینے کی دشواری نہ ہو اس کے لئے کئی طرح کینٹین ہیں۔ اس کے علاوہ ایک کینٹین ایسی بھی ہے جسے صرف خواتین ہی چلاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کا صرف ماس کمیونی کیشن ہی نہیں بلکہ شعبہ انجینئرنگ اور لا کالج بھی ملک کے سرفہرست کالجوں میں ہے۔ پروفیسر طلعت نے جامعہ کے دو نوں الومنائی ہارد مہتہ اور انشل مہروترا کو مومنٹو پیش کرکے اعزاز سے نوازا۔

واضح رہے کہ وائس چانسلر کا یہ قدم ان اقدامات کا حصہ ہے جن کے ذریعہ وہ جامعہ کے فارغین کو الومنائی کے ذریعہ جوڑنا چاہتے ہیں۔ جامعہ گلوبل الومنائی قائم کرکے ملک و بیرون ملک جامعہ کے فارغین کو جامعہ سے منسلک کرناچاہتے ہیں۔ یہ پروگرام اسی کا ایک حصہ تھا۔

میڈیا کوآرڈی نیٹر پروفیسر افتخار احمد نے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ہندوستان کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جہاں کئی اہم شخصیات پیدا ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ جامعہ کا مقصد پیسہ کمانا نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ معاشرہ کو سدھارنا چاہتے ہیں۔ ہم یہاں صرف صحافی اور انجنےئر نہیں بلکہ انسانی اقدار پر مبنی افراد تیار کرتے ہیں۔
پروفیسر فرحت بشیر نے دونوں الومنائی ہارد مہتہ اور انشل مہروترا کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ 2008میں جامعہ کے ماس کمیونی کیشن سے فارغ ہوئے تھے اور اپنے کیریر کا آغاز اسسٹنٹ فلم میکر کے طور کیا تھا۔ انہوں نے متعدد فلمیں بنائیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے فکشن اور ڈاکومنٹری کے شعبے میں نمایاں کام کیا ہے جسے بین الاقوامی طور پر سراہا گیا ہے۔ انہیں بیسٹ ڈاکومنٹری جیوری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ انہوں نے انشل مہروترا کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ 2013بیچ ماس کمیونی کیشن سے فارغ ہیں۔ سونی اور کئی کمپنی کے برانڈ امبیسڈر ہیں۔ سونی فوٹو گرافی ونر کے ساتھ انہیں ان کی مہارت کی وجہ سے جیوگرافی چینل میں مدعوکیا گیا تھا۔ اپنی فوٹوگرافی سے وہ بین الاقوامی شناخت بناچکے ہیں۔ جامعہ کو دونوں ابنائے قدیم پر فخر ہے۔
اس پروگرام کے اخیر میں شکریہ کے کلمات ادا کرتے ہوئے پروفیسر فرحت بشیر نے کہا کہ وا ئس چانسلر پروفیسر طلعت احمد کی رہنمائی میں ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور آئندہ بھی جامعہ کے الومنائی کو مدعو کرکے اعزاز سے نوازا جائے گا۔ قبل پروگرام کا آغاز جامعہ پر مبنی ڈاکو منٹری فلم سے ہوا جس میں جامعہ کا بھرپور تعارف پیش کیا گیا اور جامعہ کے شعبہ جات کے بارے میں بتایا گیا۔یہ ماس کمیونیکیشن کا اورینٹیشن پروگرام تھا جس کا افتتاح وائس چانسلر نے کیا تھا۔
First published: Aug 02, 2016 05:28 PM IST