ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ کے طالب علم محمد رضی انور روزانہ 18 گھنٹے شہریت قانون کے خلاف کرتے ہیں احتجاج

رضی انور صبح 11:00 بجے مولانا محمد علی جوہر مارگ پر احتجاج کرنے آ جاتے ہیں اور رات کے 3:00 سے 4:00 بجے تک سڑک پر کھڑے رہتے ہیں۔

  • Share this:
جامعہ کے طالب علم محمد رضی انور روزانہ 18 گھنٹے شہریت قانون کے خلاف کرتے ہیں احتجاج
رضی انور صبح 11:00 بجے مولانا محمد علی جوہر مارگ پر احتجاج کرنے آ جاتے ہیں اور رات کے 3:00 سے 4:00 بجے تک سڑک پر کھڑے رہتے ہیں۔

نئی دہلی۔ شہریت قانون کو لے کر ملک بھر میں مخالفت جاری ہے اور الگ الگ طرح کی تصویریں سامنے آ رہی ہیں۔ ان تصویروں کے درمیان جامعہ کیمپس سے ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے جو آپ کو حیران کر دے گی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم محمد رضی انور پچھلے 32 دنوں سے احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی کر رہے محمد رضی انور مولانا محمد علی جوہر مارگ پر تقریبا 17 سے 18 گھنٹے روزانہ کھڑے رہتے ہیں۔ صبح 11:00 بجے وہ احتجاج کرنے آ جاتے ہیں اور رات کے 3:00  سے 4:00 بجے تک سڑک پر کھڑے رہتے ہیں۔


جامعہ کے طالب علم محمد رضی انور روزانہ 18 گھنٹے شہریت قانون کے خلاف کرتے ہیں احتجاج


بہار کے ارریہ سے تعلق رکھنے والے رضی انور کہتے ہیں کہ ہمارے رہنماؤں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ انہوں نے جو قانون بنایا ہے وہ آئین کے بنیادی پریئمبل اور آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ انور بتاتے ہیں کہ ان کا احتجاج 15 دسمبر کو جامعہ احاطہ میں پولیس کے ذریعہ لائبریری میں گھس کر کی گئی طلبہ کی پٹائی کے بعد سے شروع ہوا تھا۔ رضی انور بتاتے ہیں کہ اس دن پولیس نے مجرموں کی طرح طلبہ کی پریڈ کرائی تھی۔ رضی انور کہتے ہیں کہ اس دن وہ لائبریری کے اوپر والے ریڈنگ روم میں تھے جہاں پر ریسرچ اسکالر پڑھائی کرتے ہیں۔ وہ بھی پولیس کارروائی کی زد میں آ گئے تھے۔


رضی انور کہتے ہیں کہ وہ یو پی ایس سی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک حکومت شہریت قانون جیسے کالے قانون کو واپس نہیں لے لیتی ہے۔ قابل ذکر ہےکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء پر تشدد اور پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے بعد سے پورے ملک میں احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔
First published: Jan 16, 2020 11:17 AM IST