ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ کی تقریب تقسیم اسناد میں پھر وزیراعظم مودی کو مدعو کرنے کے لئے تیار ہوں : طلعت احمد

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت محمود کہا کہ میں جامعہ کی آئندہ سال ہونے والی تقسیم اسناد کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کو دوبارہ بلانے کے لئے تیار ہوں۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 17, 2016 02:49 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جامعہ کی تقریب تقسیم اسناد میں پھر وزیراعظم مودی کو مدعو کرنے کے لئے تیار ہوں : طلعت احمد
نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت محمود کہا کہ میں جامعہ کی آئندہ سال ہونے والی تقسیم اسناد کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کو دوبارہ بلانے کے لئے تیار ہوں۔

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت محمود کہا کہ میں جامعہ کی آئندہ سال ہونے والی تقسیم اسناد کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کو دوبارہ بلانے کے لئے تیار ہوں۔ ملک کے مشہور ماہر ارضیات پروفیسر طلعت احمد نے ایک انگریزی روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی نے 2008میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بارے میں جو تبصرہ کیا تھا، اس پر ہمارے قدیم طلبج نے مودی کو تقریب تقسیم اسناد میں مدعو کرنے کی مخالفت کی تھی اور ذرائع ابلاغ میں بھی اس طرح کی خبریں آئی تھیں ، لیکن میں اسے دوسرے نظریہ سے دیکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2008اور 2015میں بہت فرق ہے۔ اس وقت مودی گجرات کے وزیر اعلی تھے اور اب وہ ملک کے وزیراعظم ہیں۔ ہم نے 2014کی تقسیم اسناد کی تقریب میں صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو مدعو کیا تھا۔اس وقت لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک کانگریسی کو بلایا ہے ، لیکن ہم نے صدر جمہوریہ کی حیثیت سے مدعو کیا تھا۔ صدر کے بعد دوسرا اہم شخض وزیر اعظم ہوتا ہے اور میں انہیں بلاسکتا ہوں۔

یہ دریافت کئے جانے پر کہ کیا وہ مودی کو تقسیم اسناد کی تقریب میں بلائیں گے، پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ بلاشبہ وہ انہیں دوبارہ مدعو کریں گے اور ضابطہ پر عمل کریں گے۔ بہت ممکن ہے کہ انہیں آئندہ تقریب میں بلایا جائے۔ خیال رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تقریب تقسیم اسنادمیں وزیر اعظم مودی کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے پر تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ بعدازاں وزیر اعظم کے دفتر نے مودی کی مصروفیت کا ذکر کرکے اس دعوت نامہ کو مسترد کردیا تھا۔ اس کے بعد جامعہ نے مشہور ماہرتعلیم گوردھن مہتہ کو مہمان خصوصی بنانے کا فیصلہ کیاتھا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا بی جے پی حکومت کی وجہ سے جامعہ کو کوئی پریشانی ہو رہی ہے، مسٹر احمد نے کہاکہ فی الحال مجھے ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ مجھے وزارت سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ جب سے میں آیا ہوں ‘ کسی یونیورسٹی کے مقابلے میں جامعہ کو اچھا بجٹ ملاہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبا کی تحریک کو جامعہ کے اساتذہ اور طالب علموں کی حمایت کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ ہماری یونیورسٹی میں کوئی تحریک نہیں چلائی گئی لیکن طالب علم اور استاد کہیں بھی جانے کے لئے آزاد ہیں۔ ہم انہیں روک نہیں سکتے۔ اگر پورا ملک کسی تحریک میں حصہ لے رہا ہے تو ہم جامعہ پر پابندی نہیں لگاسکتے۔ وہ جہاں چاہیںجائیں اور اپنی بات کہیں یہ فطری بات ہے۔

علی گڑھ اور جامعہ کو اقلیتی کردارپر اٹھنے والے سوال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی تعلیمی کمیشن نے 2011 میں ہی جامعہ کو مذہبی اقلیتی یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا۔ اس کمیشن کا قیام پارلیمنٹ کی منظوری سے عمل میں آیا تھا اور اس کا کام یہ پتہ لگانا تھا کہ اقلیتی ادارے مقرر ہ معیار پر کھرے اترتے ہیں یا نہیں۔ ہم نے تمام متعلقہ کاغذات کمیشن کو پیش کئے اور ہمیں یہ درجہ مل گیا۔ جبکہ علی گڑھ کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے‘ اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر اس کے ساتھ دستاویزات پر کچھ مسائل ہیں۔ پارلیمنٹ کو اس بات کافیصلہ کرنا ہے کہ قومی اقلیتی تعلیمی کمیشن کو تحلیل کر دیا جائے یا نہیں اور اگر پارلیمنٹ ایسا کوئی فیصلہ کرتی ہے تو صرف جامعہ ہی نہیں ملک کے تمام اقلیتی تعلیمی ادارے خواہ وہ سکھوں کے ہوں ‘جین یا عیسائیوں کے ہوں‘ سب پر غور کرنا ہوگا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ پارلیمنٹ اس قسم کے فیصلے کرے گی۔

First published: Apr 17, 2016 02:49 PM IST