ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اسلام اور مسلمانوں کا داعش اور بغدادی سے کوئی تعلق نہیں: مولانا اصغر علی سلفی

نئی دہلی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مھدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں دہشت گردی کی تمام قسموں خصوصا وطن عزیز اور دیار حرمین شریفین میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کی بھر پور مذمت کی ہے۔

  • Share this:
اسلام اور مسلمانوں کا داعش اور بغدادی سے کوئی تعلق نہیں: مولانا اصغر علی سلفی
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مھدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں دہشت گردی کی تمام قسموں خصوصا وطن عزیز اور دیار حرمین شریفین میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کادہشت گرد تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) اور دہشت گردوں کے سرغنہ ابو بکر بغدادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابوبکر بغدادی اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اسلام کی غلط تشریحات و تعبیرات پیش کر کے سادہ لوح نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں۔ ان کی تشریحات و تصریحات یکسر غلط اور سلف امت کے خلاف ہیں۔ ناظم عمومی نے اپنے بیان میں خلافت کے نام پر فتنہ و ظلم کی جو کاشت کی جارہی ہے اس سے نوجوانوں کو بطور خاص چوکنا رہنے کی تلقین کی ہے۔


ناظم عمومی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے دہشت گردی کے روک تھام اوراس حوالہ سے قوم وملت کی رہنمائی اور اسلام کے صحیح موقف کو واضح کرنے کے لیے اکابر علماء پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دی ہے۔ ان شاء اللہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

مولانا سلفی نے مزیدکہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ۲۰۰۴ء سے ہی دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر مہم چھیڑے ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے متعدد اجتماعات اور کانفرنسیں منعقد کیں، اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں جمعیت کے رسائل و جرائد کے خصوصی نمبرات شائع کئے۔ اسی نے سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف مارچ ۲۰۰۶ء میں اجتماعی فتویٰ جاری کیا جو کتابی شکل میں اردو، ہندی اور انگریزی میں شائع ہوا، اور دہلی میں قومی سمپوزیم منعقد کرکے دہشت گردی کی مذمت کی۔ تب سے دہشت گردی کے خلاف جمعیت کی ہمہ جہت سرگرمیاں جاری ہیں۔ جب داعش کا فتنہ سامنے آیا تو مرکزی جمعیت نے اس کی خطرناکی کو محسوس کرتے ہوئے سب سے پہلے فروری ۲۰۱۵ء میں داعش کے خلاف قومی سمپوزیم منعقد کر کے نام نہاد فتنہ خلافت کی سرکوبی اور مذمت کی اور اس کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کیا اور اس کی کتاب وسنت کی ممنانی تشریحات کی تردید کی۔


سال رواں ۲۰۱۶ء میں بھی مرکزی جمعیت نے ’’قوم وملت داعش اور دہشت گردی کے تعاقب میں‘‘ کے عنوان پر قومی سمپوزیم کا انعقاد کیا اور یہ تعاقب ہنوز جاری ہے۔ اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی میرٹھ میں منعقد ہونے والی عظیم الشان کانفرنس ہے جسے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اشتراک سے صوبائی جمعیت اہلحدیث مغربی یوپی ۱۸؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو منعقد کر رہی ہے ۔ اس عظیم الشان کانفرنس میں عمائدین ملک و ملت اور علماء جماعت کے علاوہ بڑی تعداد میں عوام و خواص شریک ہوں گے۔

First published: Dec 13, 2016 07:11 PM IST