உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مولانا محمود مدنی نے لڑکیوں کی شادی کی عمر کو لیکر کہا، 18 سال کی عمر میں ووٹ دینے کا حق ہے تو پھر۔۔۔

    Youtube Video

    لڑکیوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال سے اکیس سال کرنے کا معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔مسلم تنظیمیں مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کر رہی ہیں۔جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اٹھارہ برس کی عمر میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔اور اگر کوئی ملک کی تعمیر میں حصہ لے سکتا ہے تو شادی بھی کر سکتا ہے ۔

    • Share this:
      مرکزی حکومت (Modi Cabinet) لڑکیوں کی شادی (Girls age for marriage)کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال (Women Marriage legal age) کرنے کے لئے قانون لارہی ہے۔ مرکزی کابینہ نے بدھ کو خواتین کے لئے شادی کی قانونی عمر 18 سے 21 سال تک بڑھانے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے لئے حکومت موجودہ قوانین میں ترمیم کرے گی۔ حالانکہ، ابھی قانون بننے سے پہلے ہی اس تجویز کی مخالفت ہونے لگی ہے۔ لڑکیوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال سے اکیس سال کرنے کا معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔ مسلم تنظیمیں مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کر رہی ہیں۔جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اٹھارہ برس کی عمر میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے اور اگر کوئی ملک کی تعمیر میں حصہ لے سکتا ہے تو شادی بھی کر سکتا ہے ۔

      وہیں دوسری جانب جمعیت علماء ہند ارشد مدنی گروپ کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھی اشاروں اشاروں میں مرکزی حکومت کے فیصلہ کی مذمت کی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر اس سے نقصان ہے تو لوگوں کو بولنا چاہیے۔

      وہیں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے اپنے دئے گئے متنا زعہ بنان پر صفا ئی پیش کی ہے ۔ شفیق الر حمن برق نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ لڑکیاں چودہ سال میں ہی بالغ ہو جاتی ہیں لہذا اکیس سال تک نہیں رکنا چاہیئے ۔ کیونکہ بھارت غریب ملک ہے یہاں اتنا انتظار نہیں کرنا چاہئے ۔آخر میں انھوں نے کہا کہ سب گھر والے چاہتے ہیں کہ وقت پر شادی ہو جائے ۔ انہوں نے مزید کہا لڑکیاں چودہ سال میں ہی بالغ ہو جاتی ہیں لہذا اکیس سال تک نہیں رکنا چاہئے چونکہ ہندستان غریب ملک ہے اور سبھی گھر والے بھی چاہتے ہیں کے وہ اپنے فریضے کو وقت پر انجام دیں۔

      مسلم تنظیم جمعیۃ علمائے ہند کے سکریٹری گلزار اعظمی نے کہا ہے کہ وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے نیوز-18 سے بات چیت میں کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہپوری طرح سے غلط ہے۔ بالغ کی عمر 18 سے تو شادی کی عمر 21 کیسے ہوسکتی ہے۔ اگر لڑکا۔لڑکی دونوں بالغ ہیں مطلب 18 سال کے ہیں تو لڑکی عمر 21 کیوں ہونی چاہیے۔ اس سے لڑکیاں غلط راہ پر چلی جائیں گی۔ یہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں لڑکا 14-15 سال میں ہی بالغ ہوجتا ہے، ہم نہیں مانیں گے یہ قانون۔ وہیں اسلامک اسکالر خان محمد آصف نے کہا کہ اسلام میں سن بلوغت کے بعد شادی کی اجازت ہے لیکن حکومت یہ جو قانون لانا چاہتی ہے وہ صرف اسلام کی بات نہیں ہے۔ ہر مذہب کے لوگوں کو دیکھ کر قانون لانا چاہیے کہ لڑکی کا ڈراپ آوٹ ریٹ کیا ہے۔ کتنا ایمپلائمنٹ ہے۔ اس کے بعد حکومت قانون لاتی ہے تو کسی کو مخالفت نہیں کرنا چاہیے۔

      وہیں ایودھیا میں بابری مسجد کے سابق فریق اقبال انصاری نے کہا کہ سب اپنے اپنے گھروں میں چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد شادی بیاہ کرکے نمٹ لیں، لیکن حکومت اب جو کررہی ہے ٹھیک ہی کررہی ہے۔ پہلے سے سماج میں ایک روایت بنی ہوئی ہے لیکن، اب حکومت نے کچھ سوچا ہوگا، اس لئے یہ کررہی ہے۔ اس کے علاوہ مہنت ہنومان گڑھی مندر کے مہنت راجو داس نے کہا کہ سناتن دھرم کو آگے بڑھانے کے لئے مودی سرکار سب کچھ کررہی ہے۔ صرف سناتن دھرم ہی نہیں مسلم مذہب کے غلط رواجوں کو بھی مودی حکومت ہٹا رہی ہے، جیسے تین طلاق، بچوں کی شادی، ان سب پر پابندی لگانے کے لئے 21 سال کرنا ٹھیک ہے۔

      بتادیں کہ مرکزی کابینہ (Modi Cabinet) نے لڑکیوں کی شادی (Girls age for marriage) کی عمر میں اضافے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے دوہزار بیس میں اس حوالے سے اعلان کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ قوت بخش تغذیہ کی کمی بیٹیوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی شادی مناسب وقت پر ہو۔ ذرائع کے مطابق اب مرکزی حکومت موجودہ قانون میں ترمیم کرے گی۔ کابینہ نے اس معاملے پر تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کی سفارشات پریہ فیصلہ لیا ہے۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: