ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ملک کا آئین اورجمہوریت خطرے میں، امن اورسیکولرازم کی راہ پرچل کرہی ملک کرسکتا ہے ترقی: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں  کیرالہ سیلاب متاثرین کے لئے مکانات کی تعمیر ومرمت کےلئے 6 کروڑکے پروجیکٹ کومنظوری دی گئی۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ملک کا آئین اورجمہوریت خطرے میں، امن اورسیکولرازم کی راہ پرچل کرہی ملک کرسکتا ہے ترقی: مولانا ارشد مدنی
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی: ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں مرکزی دفترجمعیۃعلماء ہند میں مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے موجودہ حالات پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دوسرے اہم ملی وقومی معاملات پرنہ صرف غورخوض ہوا، بلکہ متعدد اہم تجاویز کوبھی منظوری دی گئی۔ اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نےکہا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ملک کے حالات نہ صرف ابتر ہوتے جارہے ہیں بلکہ لوگوں میں عدم تحفظ اورخوف کا ماحول بھی مزید گہرا ہوتاجارہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ اپنےسیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے کچھ لوگ جھوٹی تشہیراورپروپیگنڈوں کے ذریعہ نہ صرف اقلیتوں میں خوف ودہشت پھیلانے کا خطرناک کام کررہے ہیں بلکہ منصوبہ بند طریقہ سے ایک مخصوص نظریہ کو ملک پر تھوپنے کی خطرناک کوششیں بھی ہورہی ہیں، ان سب کے نتیجہ میں ملک کی اقلیتیں خاص پرطور مسلمان اوردلت طبقہ کے لوگ خود کو یکسرغیرمحفوظ سمجھنے لگے ہیں، ان کے اندریہ احساس گھرکرتا جارہا ہے کہ ملک کے قومی دھارے سے الگ کرکے انہیں کنارے لگادینے کی کوشش ہورہی ہے اور اس کوشش کو کسی نہ کسی سطح پرحکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔


سیکولرازم، آئین اورمذہبی اتحاد کو خطرہ


مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس خطرناک روش کے سبب ملک کے سیکولرازم، آئین، جمہوریت اورمذہبی اتحادکو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اقلیت، دلتوں اورکرسچن کے لئے ملک کے موجودہ سیاسی حالات تقسیم کے وقت سے بھی زیادہ خطرناک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماراملک صدیوں سے کثرت میں وحدت کی مثال رہا ہے، مذہبی ہم آہنگی، رواداری اورایک دوسرے کا احترام اس کی شناخت رہی ہے اوریہی شناخت ملک کے آئین کی روح ہے، مگرافسوس کہ ایک طرف جہاں آئین وقانون کی بالادستی کو پامال کیا جارہاہے وہیں دوسری طرف مذہبی شدت پسندی کوبڑھاوا دے کر قومی یکجہتی، رواداری، مساوات اورملک کے بھائی چارے کو نیست ونابود کردینے کی سازشیں ہورہی ہیں۔

 مخصوص مذہب کی حکمرانی نہیں چل سکتی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی صدیوں پرانی تاریخ شاہد ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے ماننے والے شروع سے امن اور محبت کے ساتھ رہتے آئے ہیں، اس لئے میں اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ ملک کسی ایک خاص مذہب اور مخصوص نظریہ کی حکمرانی پرنہیں چل سکتی، بلکہ مذہبی غیرجانبداری امن اور سیکولرازم کی راہ پر چل کرہی یہ ملک ترقی کرسکتا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر ملک میں آئین وقانون کی بالادستی ختم ہوئی اور مذہبی ہم آہنگی کا تانہ بانہ ٹوٹ گیا تو یہ بات ملک کے لئے انتہائی نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:    آسام شہریت معاملہ: جمعیۃعلماء کے وکلاء مذہب سے اوپراٹھ کرمتاثرین کی قانونی مدد کےلئے تیار: مولانا سید ارشد مدنی

مولانامدنی نے مزید کہا کہ جمعیۃعلماء ہند اپنے قیام سے آج تک ملک میں اتحاد، یکجہتی، امن اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دینے میں پوری طرح سرگرم رہی ہے، جمعیۃ کا یہ مشن آج کے حالات میں اور بھی ضروری ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماراملک ترقی کی جن بلندیوں پرہے یہاں تک اسے پہنچانے کے لئے ملک کے ہرشہری نے اپنا تعاون دیا ہے۔  اس موقع پربابری مسجد ملکیت کے مقدمہ کی اب تک کی قانونی پیش رفت پراطمینان کا اظہارکیا گیا۔

کیرالہ متاثرین کے لئے مکانات کی تعمیرکو منظوری

کیرالہ میں آئے بھیانک سیلاب کی تباہ کاریوں پر متاثرین سے ہمدردی کا اظہاکرتے ہوئے ایک اہم تجویزمیں کہا گیا ہے کہ اس مصیبت کی گھڑی میں جمعیۃعلماء ہند مذہب وقوم کی تفریق کے بغیرتمام متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے ہم مالک کائنات کے بندے ہیں لہذا اس کے ہر فیصلے پرسرتسلیم خم کردینا ہماری بندگی کا تقاضہ ہے اوروہی ہماری اس عظیم تباہی وبربادی کا مداویٰ بھی کرے گا۔ تاہم بطوراسباب جمعیۃعلماء ہند اوراس کی شاخیں اپنی بساط کے مطابق سیلاب میں اپنا سب کچھ کھودینے والوں کی مددمیں سرگرم عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:    طلاق ثلاثہ بل مسلمانوں کومنظورنہیں، وہ شریعت پرعمل کریں گے: مولانا ارشد مدنی

صوبہ جمعیۃعلماء مہارشٹرا غلہ، کپڑے اور دیگراشیاء کی فراہمی میں ڈیڑھ کروڑ سے بھی زائد رقم خرچ کرچکی ہے۔ جمعیۃعلماء گجرات، احمدآباد متاثرین کے لئے تقریباً ڈیڑھ کروڑ کی اشیاء بھیج چکی ہے، جمعیۃعلماء کرناٹک بھی 50 لاکھ قیمت کی روز مرہ ضروریات کی اشیاء سے ان کی مددکرچکی ہے۔ متاثرین میں ہندومسلم عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں، تجویز میں مزید کہا گیا ہے کہ جمعیۃعلماء ہند نے ایسے لوگوں کے لئے جن کے مکانات تباہ ہوچکے ہیں اوراس وقت وہ کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبورہیں ابتدائی طورپر کیرالہ کے شمالی، جنوبی اوروسطی زون میں 300 مکانات کی تعمیر اور مرمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبہ پر تقریبا 6 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

این آرسی معاملے میں بیداری کا مظاہرہ کریں
دوسری اہم تجویزمیں کہا گیا ہے کہ ملک میں یکم ستمبرسے ووٹرلسٹ میں نئے ناموں کے اندراج اوردرستگی کا کام شروع ہوچکا ہے جو 31 اکتوبر تک جاری رہے گا، ہر پولنگ بوتھ پر متعین دنوں میں سرکاری عملہ اس کے لئے ماموررہے گا ، اس لئے ہمیں چاہئے کہ اس سلسلہ میں مستعدی کا مظاہرہ کریں اور یہ یقین کرلیں کہ ان کے گھراورخاندان کے کسی بالغ شخص کا نام ووٹرلسٹ میں شامل ہونے سے رہ تو نہیں گیا ہے۔ اگرایسا ہے تو وہ فوراً ناموں کا اندراج کروالیں، کیونکہ ایک تازہ انکشاف سے معلوم ہوا ہے کہ کروڑوں کی تعدادمیں 18سال یا اس سے زائد عمر کے لوگوں کے نام ووٹرلسٹ میں شامل نہیں ہے یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  این آرسی پرسپریم کورٹ نے پرتیک ہزیلا اوررجسٹرارکی سرزنش، عدلیہ پرمکمل اعتماد، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں: مولانا ارشد مدنی 

مجلس عاملہ نے طے کیا ہے کہ ریاستی صدرورونظماء اعلیٰ کی توجہ باقاعدہ ایک سرکلرجاری کرکے اس طرف مرکوز کرائی جائے ، تاکہ وہ اضلاع کے ذمہ داروں کواس بابت باخبرکرسکیں۔ این آرسی کے تعلق سے انہوں نے آسام کے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ سپریم کورٹ کے ہدایت کے مطابق 25ستمبر سے آبجیکشن اورکلیم کا عمل شروع ہورہا ہے چنانچہ جن لوگوں کا نام شہریت کے رجسٹر میں نہیں ہے وہ مذکورہ دستاویزات کے ساتھ این آرسی مراکز جائیں اورشہریت کے کاغذات پر کریں ، ان کی مددکے لئے جمعیۃعلماء ہند اور صدرجمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر کے ذریعہ متعین کئے گئے وکلاء اورکارکنان ٹیم ہر جگہ ان کی قانونی مددکے لئے موجودرہے گی ۔

یہ بھی پڑھیں:    الورماب لنچنگ واقعہ پر بولےارشد مدنی: یہ قتل نہیں حیوانیت اور درندگی کی انتہا ہے، مالی و قانونی امداد کی کرائی یقین دہانی

یہ بھی پڑھیں:   بابری مسجد ملکیت مقدمہ: غیرضروری بیان بازی کرنے والوں کے خلاف عدالت ازخودنوٹس لے: مولانا سید ارشد مدنی 
First published: Sep 24, 2018 09:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading