உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمر گوتم کے کیس کی جمعیت علماء ہند کرے گی پیروی، محمود مدنی نے جاری کیا بیان

    Youtube Video

    یوپی میں مبینہ تبدیلی مذہب معاملے میں جمعۃ علماء ہند Jamiat Ulama i Hind کے صدرمولانامحمود مدنی نےبیان جاری کیاہے۔مبینہ تبدیلی مذہب کے الزام میں عمرگوتم ودیگرکی گرفتاریوں پرسوال اٹھایا ہے۔

    • Share this:
      یوپی میں مبینہ تبدیلی مذہب معاملے میں جمعۃ علماء ہند کے صدرمولانامحمود مدنی نےبیان جاری کیاہے۔مبینہ تبدیلی مذہب کے الزام میں عمرگوتم ودیگرکی گرفتاریوں پرسوال اٹھایا ہے۔وہیں انہوں نے کہاکہ جمعۃ علماءہند عمرگوتم ودگیر کی پیروی کرےگی۔ محمود مدنی کاکہناہے کہ ہرشخص کو عدالت میں اپنا موقف پیش کرنےکاحق ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمر گوتم کے بیٹےعبداللہ عمر کی سفارش پر جمعیۃ علماء عدالت میں پیروی کرےگی۔واضح ہو کہ اے ٹی ایس نے عمرگوتم ودگیر کو چندروز قبل گرفتار کیاتھا۔اور اب اس معاملے کی این آئی اےجانچ کرسکتی ہے۔

      لوگوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا
      عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ میرے گھر پر میرے چچا میرے اور کزن بھائی آتے ہیں، لیکن کبھی انہیں مذہب اسلام اپنانے کے لئے نہیں کہا۔ میرے والد نے ہمیشہ انسانیت اور کیریئر کے بارے میں بات کی ہے۔ مفتی جہانگیر اور دوسرے لوگ مذہب تبدیل کرنے کے لئے آنے والے لوگوں کو اسسٹ کرتے تھے، میں سو سے زیادہ ایسے لوگوں کے نام بتا سکتی ہوں، جو کہیں گے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔
      تبدیلی مذہب معاملے (Forceful Conversion) میں اہم ملزم بنائے گئے عمر گوتم (Umar Gautam) کی بیٹی نے سامنے آکر وضاحت پیش کی ہے۔ نیوز 18 سے ایکسکلوزیو بات چیت میں عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ ان کے والد پوری طرح بے قصور ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں کی ڈاکیومینٹیشن میں مدد کرتے تھے، جو اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ عمر گوتم کی بیٹی نے مانا کہ ترغریب دینی والی تقریر ان کے والد ضرور دیتے تھے، لیکن کسی کے ساتھ زور زبردستی نہیں کی گئی۔ جہاں تک غیر ملکی فنڈنگ کی بات ہے تو کچھ قریبی رشتہ دار زکوۃ کا پیسہ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے دیتے تھے۔ عمر گوتم کی بیٹی نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ نوئیڈا کے بہرے لوگوں کا مذہب تبدیل کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف مترجم ان کو لے کر آئے تھے۔ ڈاکیومنٹیشن ایفیڈیویٹ کے لئے مدد چاہتے تھے۔ میرے والد نے کبھی ان کو کال نہیں کیا اور نہ ہی وہ ان کے رابطے میں تھے۔

      عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ پاکستان سے ان کے والد کو جوڑنا پورے طور پر بے بنیاد ہے۔ ان کا کوئی کنکشن نہیں ہے۔ میرے والد پوری طرح سے ایماندار ہیں۔ میرے والد لوگوں کو بتاتے تھے کہ مذہب اسلام اچھا مذہب ہے۔ لوگوں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرتے تھے۔ انہوں ںے کبھی نہیں کہا کہ ہندو مذہب غلط ہے۔ جو لوگ بھی میرے والد سے رابطہ کرتے تھے، ان میں زیادہ تر لوگ شادی کے لئے آتے تھے۔ ان کے ڈاکیومنٹ بنتے تھے، وہ صرف مدد کرتے تھے۔ جہاں تک زبردستی تبدیلی مذہب کی بات ہے تو کبھی میرے والد نے میری ماں کو مذہب تبدیل کرنے کے لئے نہیں کہا۔ میری ماں نے خود اپنی مرضی سے اپنا مذہب تبدیل کیا۔ یہاں تک کہ مجھے نہیں کہا کہ برقع پہنو۔ میرے بھائی کو نہیں کہا کہ داڑھی رکھو۔ میرے والد نے ہم سب کو انسانیت کے لئے ترغیب دی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: