உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دھرم سنسد پر پابندی لگانے کیلئے جمعیۃ علماء ہند نے الیکشن کمیشن اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو لکھا خط

    Youtube Video

    خط میں تحریر کیا گیا ہے کہ یوپی میں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں ایسے میں الیکشن کمیشن کو ایسے پروگراموں پر پابندی لگانا چاہئے جس سے الیکشن پر اثر پڑ سکتا ہے اور ووٹوں کی تقسیم مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: ہریدوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں گذشتہ کل سپریم کورٹ آف ا نڈیا نے اترا کھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہو ئے اتراکھنڈ حکومت کو دس دنوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس سری کانت ویاس اور جسٹس ہیما کوہلی شامل ہیں نے جہاں ایک جانب نوٹس جاری کی تھی وہیں علی گڑھ میں 22اور 23 جنوری کو ہونے والے دھرم سنسد پروگرام پر فوری پابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے فریقین کو حکم دیا تھا کہ وہ اس ضمن میں انتظامیہ سے رجوع کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ متوقع دھرم سنسد کے انعقاد کے تعلق سے کارروائی کریں۔
    سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق آج ایڈوکیٹ صارم نوید نے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی جانب سے چیف الیکشن کمیشن شری سبھاش چندرا، الیکشن کمشنر راجیو کمار، الیکشن کمشنرانوپ چندرا پانڈے ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ علی گڑھ سلوا کمار اورسینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولس علی گڑھ کلا ندھنی نیتھانی کو بذریعہ ای میل ایک خط بھیجا ہے جس میں تحریر ہے کہ جمعیۃ علماء ہند نے اترا کھنڈ دھرم سنسد میں کی گئی نفرت آمیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے اور گذشتہ کل دوران سماعت سپریم کورٹ آف انڈیا نے فریقین کو حکم دیا تھا کہ وہ مجوزہ دھرم سنسد کے انعقاد پر اگر آپ کو اعتراض ہو تو اس پروگرام کو روکنے کے لیئے مقامی انتظامیہ سے رجوع ہوں۔
    چیف جسٹس آف انڈیا کی ہدایت کے مطابق جمعیۃ علماء نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے علی گڑھ میں 22اور 23 جنوری کو ہونے والی دھرم سنسد پر پابند لگائی جائے تاکہ اس کے انعقاد سے ہونے والی بے چینی پر روک لگائی جاسکے اور ملک میں امن و امان قائم رہے۔ خط میں تحریر کیا گیا ہے کہ یوپی میں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں ایسے میں الیکشن کمیشن کو ایسے پروگراموں پر پابندی لگانا چاہئے جس سے الیکشن پر اثر پڑ سکتا ہے اور ووٹوں کی تقسیم مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پر امن اور شفا ف الیکشن کرائے لیکن اگر دھرم سنسد جیسے نفرت پھیلانے والے پروگرام ہوتے رہے تو پر امن اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ایڈوکیٹ صارم نوید نے مزید تحریر کیا ہے کہ اترا کھنڈ دھرم سنسد کے اختتام پر یتی نرسنگھا نند سرسوتی ، سوامی پربھودنند گری، سادھوی اننا پرنا اور دیگر مقررین نے اعلان کیا تھا کہ اگلی دھرم سنسد کا انعقاد علی گڑھ میں کیا جائے گا لہذا اتراکھنڈدھرم سنسد میں جس طرح کی بیان بازی کی گئی تھی اور مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیئے کھلے عام بیانات دیئے گئے تھے ایسا دوبارہ نہ ہو اس کے لیئے علی گڑھ میں ہونے والی دھرم سنسد کے انعقاد پر رو ک لگائی جائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: