உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہجومی تشدد کے خلاف صرف مذمتی بیان کافی نہیں، بلکہ قانون سازی کی ضرورت: مولانا ارشد مدنی

    مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو

    مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو

    ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر مولانا سید ارشد مدنی کی زیر صدارت منعقد اس اہم اجلاس میں بابری مسجد مقدمہ، آسام شہریت معاملہ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ اور ملک کے موجودہ حالات اور قانون وانتظام کی بدتر صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔’’  ہندوستان صدیوں سے اپنی مذہبی غیر جانبداری اور رواداری کے لئے مشہور ہے، سیکولرازم اور رواداری نہ صرف ہندوستان کی شناخت ہے بلکہ یہی اس کے آئین کی روح بھی ہے۔ آج ملک میں اقلیتوں خاص طورسے مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی وجہ سے اب تک بہت سے لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ اگر آئین اور قانون کی بالادستی قائم نہیں رہی تو یہ ملک کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو گا‘‘۔ ان خیالات کا اظہار آج مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کے مفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال میں جمعیۃ کے زیر اہتمام منعقد مجلس عاملہ کے ایک  اہم اجلاس میں مولانا سید ارشد مدنی نے کیا۔
      ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر مولانا سید ارشد مدنی کی زیر صدارت منعقد اس اہم اجلاس میں بابری مسجد مقدمہ، آسام شہریت معاملہ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ اور ملک کے موجودہ حالات اور قانون وانتظام کی بدتر صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی دوسرے اہم ملی اور سماجی ایشوز پر تفصیل سے غوروخوض ہوا۔
      مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند اپنے قیام سے لے کر آج تک ملک میں اتحاد ویکجہتی ، امن وآشتی اور بھائی چارہ کے فروغ کے لئے سرگرم رہی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند کا یہ مشن آج اور بھی ضروری ہوگیا ہے ، کیونکہ ایک خاص سوچ اور نظریہ کی متحمل سیاسی قوتیں ملک کو سیکولرازم اور مذہبی غیر جانبداری کی راہ سے ہٹا کر پورے ملک میں نفرت اور فرقہ پرستی کا ماحول پیدا کرنے کے درپے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ صدیوں سے مل جل کر ہم  ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اس ملک کی مٹی میں ہمارے بزرگوں کا لہو شامل ہے۔ ان کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ ملک کی اقلیتوں کو مطمئن کرنا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کیوں کہ وزیر اعظم پورے ملک کا ہوتا ہے۔
      صدر جمعیتہ نے اس موقع پر ماب لنچنگ کے حالیہ واقعات اور خاص کر تبریز انصاری کے وحشیانہ قتل پر اپنی سخت برہمی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قتل نہیں حیوانیت اور درندگی کی انتہا ہے  اور ہندستان کے ماتھے پر کلنک اور بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جھارکھنڈ ماب لنچنگ کی ایک پریوگ شالہ بن گئی ہے جہاں اب تک19 لوگ ماب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں ، جس میں 11 مسلم ہیں اور دیگر دلت اور آدیواسی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے باوجود یہ درندگی رک نہیں رہی ہے حالانکہ 17جولائی 2018 کو سپریم کورٹ نے اس طرح کے واقعات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ کوئی شخص قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا اورمرکز سے اسے روکنے کے لئے پارلیمنٹ میں الگ سے قانون بنانے کی ہدایت بھی کی تھی لیکن اس کے بعد سے اب تک ماب لنچنگ کے واقعات ہو رہے ہیں۔
      واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے اس آرڈر کے بعد بھی اب تک تقریبا 55لوگ ماب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں اور این ڈے اے کے دوبارہ اقتدارمیں آنے کے بعد 26 مئی سے آج تک 8افراد ماب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ افسوس  اس پر ہے کہ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے بعد بھی سرکار قانون سازی نہیں کر رہی ہے اور بے گناہی کی ہلاکت  کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات سے پہلو تہی کررہی ہے۔ چنانچہ جمعیۃ علماء ہند نے سڑک پر اترکراحتجاج اور جلوس کے بجائے اس کے خلاف عدالت عظمی ٰ میں قانونی چارہ جوئی کافیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں جمعیۃعلماء ہند نے پیش رفت کرتے ہوئے جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کردی ہے۔

      مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہجومی تشدد ایک مذہبی مسئلہ ہے جس میں مذہبی بنیاد پر لوگوں کو تشدداور بربریت کانشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس لئے تمام بالخصوص خود کو سیکولر قراردینے والی سیاسی پارٹیاں میدان عمل میں کھل کر سامنے آئیں اور اس کے خلاف قانون سازی کے لئے عملی اقدام کریں کیوں کہ صرف مذمتی بیان کافی نہیں ہے۔
      First published: