உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں: سپریم کورٹ میں جمعیتہ علما ہند کا جوابی حلف نامہ

    مولانا محمود مدنی: فائل فوٹو

    مولانا محمود مدنی: فائل فوٹو

    جمعیتہ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں ایک ساتھ طلاق ثلاثہ ، تعد د ازدواج اور نکاح حلالہ سے متعلق اپنا جوابی حلف نامہ پیش کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ یہ مسلم پرسنل لاء کے بنیادی مسائل ہیں ،لہٰذا ان میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ جمعیتہ  علماء ہند نے سپریم کورٹ میں ایک ساتھ طلاق ثلاثہ ، تعد د ازدواج اور نکاح حلالہ سے متعلق اپنا جوابی حلف نامہ پیش کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ یہ مسلم پرسنل لاء کے بنیادی مسائل ہیں ،لہٰذا ان میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔جمعیتہ  علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی طرف سے آج سپریم کورٹ میں جوابی حلف نامہ سینئر وکیل شکیل احمد سید نے پیش کیا ۔ جمعیتہ  نے اپنے حلف نامہ میں قرآن وسنت، دستور ہند اورعدالتو ں کے فیصلوں سے ماخوذ شہادتوں کو بنیاد بنا کر ایک ٹھوس اور مضبوط جواب داخل کیا ہے،جوابی حلف نامہ میں فریق مخالف کی طرف سے عوامی طور پر اٹھائے جانے وا لے سوالوں کا بھی جواب دیا گیا ہے۔ جمعیتہ علماء ہند نے ساتھ ہی اس بات کا بھی جواب دیا ہے کہ بعض مسلم خواتین نے سپریم کورٹ میں جو شکایتیں کی ہیں ، وہ کوئی نئی نہیں ہیں ، ان سے متعلق نئے قانو ن کی روشنی میں خود سپریم کورٹ ماضی میں فیصلہ کرچکا ہے کہ ایسی خواتین طلاق ہونے کا تصفیہ کرانے کے لیے ریگولر سول کورٹ رجوع کرسکتی ہیں۔ حلف نا مہ میں اس بات پر زورد یا گیا ہے کہ مسلم پرسنل لاء قرآن وسنت کی بنیاد پر قائم ہے جس کی تشریح و نفاذ معتبر اور مستند علماء کے ذریعے کافی تحقیق کے بعد ہو ا ہے ۔سپریم کورٹ اور متعدد ہائی کورٹوں کے ذریعے کیے گئے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دستور کا تیسرا باب جو بنیادی حقوق پر مشتمل ہے وہ کسی بھی پارٹی کے پر سنل لاء سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔


      خود سپریم کورٹ نے کرشنا سنگھ بنام متھورا اہیر کے مقدمے میں کہا ہے کہ کوئی بھی عدالت ، مسلم پرسنل لاء میں عصر جدید کے نئے نظریات داخل نہیں کرسکتی بلکہ اسے پرسنل لاء کے بارے میں اس کے مستند او رمعتبر حوالوں کی روشنی میں ہی قانون کا نفاذ کرنا چاہیے ، سوائے ان صورتوں میں جب کہ اس کو کسی اور استعمال یا رواج سے بدل نہ دیا گیا ہو یا قانون کے ذریعے اسے منسوخ نہ کردیا گیا ہو۔ حلف نامہ میں جمعیۃ علماء ہند نے رسم و رواج اور مسلم پرسنل لاء میں فر ق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسلم پرسنل لاء کوئی رسم ورواج نہیں ہے ، جو کسی مخصوص علاقے کا عمل ہو بلکہ یقین کے عنصر پر قائم ہے ۔ شریعت ایپلی کیشن ایکٹ 1937 بنانے کے اسباب و عوامل میں یہ لکھا ہے کہ اس وقت کے قانون سازوں نے مسلم پرسنل لاء کی خوبیوں کی تعریف کی ہے ، نیز مسلم خواتین کی تنظیموں کا یہ مطالبہ تھا کہ انھیں مقامی رسم ورواج کے بجائے اپنے پرسنل لاء کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ مسلم پرسنل لاء میں عورتوں کو زیادہ عزت ملتی ہے ۔ جمعیتہ علماء ہند نے سپریم کورٹ کے سامنے متنازع بنا کر پیش کئے جانے والے ’’نکاح حلالہ‘‘ پر اپنا موقف یہ پیش کیا ہے کہ جب تین طلاق قطعی طور سے پڑجاتی ہیں تو میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے فوری طور سے ممنوع ہو جاتے ہیں اور وہ دونوں اب ایک دوسرے سے شادی نہیں کرسکتے ، ہاں اگر وہ (عورت) اس کے بعد دوسرے مرد سے شادی کرلے او ریہ نکاح بھی اسلام کے بتائے ہوئے نظام کے مطابق ٹوٹ جائے تب جا کر وہ نئے سرے سے نکاح کرکے اپنے سا بق شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے ۔ حلف نامہ میں جمعیتہ  علماء ہند نے یہ واضح کیا ہے کہ مسلم خواتین کو دوسرے کی بہ نسبت زیادہ آزاد ی حاصل ہے کیوں کہ اس پر اسی شوہر سے دوبارہ شادی کا نہ توجبر ہے اور نہ ہی کسی دوسری شادی کا کوئی دباؤ ہے۔


      حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ جہاں تک تعدد ازدواج کی بات ہے تو نہ یہ لازم ہے او ر نہ اس کی مطلق اجازت ہے بلکہ قرآن نے اس کی مشروط اجازت دی ہے ۔جمعیتہ علماء ہند نے اپنے بیان میں اس بات پر زورد یا ہے کہ مسلم پرسنل لاء کی خصوصیات کا تحفظ مذہبی آزادی کے لیے ضروری ہے اور اسے ختم کرکے یکساں سول کوڈ کا نفاذ دستور کے منافی ہو گا ۔ حلف نامہ داخل کیے جانے پر آج یہاں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جمعیتہ  علماء ہند پوری قوت سے یہ مقدمہ لڑے گی اور شریعت کا مضبوطی سے دفاع کرے گی ، تاہم انھو ں نے اس بات پر بھی ز ور دیا کہ ہم مسلم سماج کے اندر بھی اصلاح کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیتہ علماء ہند یہ مانتی ہے کہ نکاح اور طلاق کے سلسلے میں ہمارے اندر ا یسی رسومات داخل ہو گئی ہیں جو شریعت اسلامی کے احکام کے بالکل خلاف ہیں ۔ ہمیں ان رسومات کے خلاف جہاد کرنا ہوگا اور عورتوں کو اسلام کی روسے نہ صرف مساویانہ بلکہ ان کی عزت و حرمت کے مطابق معاملہ کر نے کے لیے تحریک چلانی ہو گی ۔ اس کے بغیر غیروں کو مداخلت سے نہیں روکا جاسکتا ۔

      First published: