ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بابری مسجد تنازعہ: عدالت میں مضبوط دلائل پیش کرنے کیلئے جمعیتہ علما ہند نے کر لی تیاری

بابری مسجد کی اراضی کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ تین حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلہ کے خلاف دائر اپیل میں قانونی محاذ پرجاری لڑائی اب اِس لحاظ سے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کہ عدالت عظمیٰ یومیہ بنیاد پر اس مقدمہ کی سماعت کرے گی۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بابری مسجد تنازعہ: عدالت میں مضبوط دلائل پیش کرنے کیلئے جمعیتہ علما ہند نے کر لی تیاری
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمہ میں 8فروری سے سپریم کورٹ میں روزانہ سماعت ہوگی،جس میں فریق اول یعنی جمعیۃ علماء علماء ہند کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں مضبوط دلائل پیش کرنے کیلئے وکلاء کی ٹیم پوری طرح مستعد ہوگئی ہے۔ کل سے شروع ہونے والی مقدمہ جاتی کارروائی کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے مقرر کردہ سینئر وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون اور ڈاکٹر راجو رام چندرن عدالت میں اپنا موقف رکھیں گے۔ یہ اطلاع آج جمعیۃ علماء کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی نے ذرائع ابلاغ کو دی ہے۔


بابری مسجد کی اراضی کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ تین حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلہ کے خلاف دائر اپیل میں قانونی محاذ پرجاری لڑائی اب اِس لحاظ سے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کہ عدالت عظمیٰ یومیہ بنیاد پر اس مقدمہ کی سماعت کرے گی۔چنانچہ صدرِ جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند نے اس ضمن میں قانونی تیاری مکمل کرلی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی سہ رکنی بنچ جس میں جسٹس عبدالنظیراور جسٹس بھوشن شامل ہیں، کے روبرو کل سے معاملے کی سماعت ہوگی جس کی تیاری کو حتمی شکل دینے میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول سینئر وکلاء سے مسلسل رابطہ میں ہیں تاکہ مقدمہ کی سماعت کے وقت جمعیۃعلماء ہند عدالت کے سامنے اپنے مضبوط دلائل پیش کرسکے۔


عدالت کے حکم کے مطابق ہندی،اردو،فارسی،سنسکرت ودیگر زبانوں میں موجود دستاویزات کے ترجمے بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں ۔ ذہن نشیں رہے کہ بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمہ میں سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 پر بحث میں جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر راجو دھون، ڈاکٹر راجو رام چندرن بحث کریں گے جبکہ ان کی معاونت کیلئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ طاہر، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے ، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگربھی موجود ہوں گے ۔ خیال رہے کہ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ء کی شب میں بابری مسجد کے اندر رام للا کے مبینہ ظہور کے بعد حکومت اتر پردیش نے بابری مسجد کو دفعہ ۱۴۵؍ کے تحت اپنے قبضہ میں کرلیا تھا جس کے خلاف اس وقت جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیرالدین فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نے فیض آباد کی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا فیصلہ ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء؍ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے کردیا گیا تھا ۔ اسی فیصلے کے خلاف جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر جمعرات سے سماعت عمل میں آئے گی ۔


بتا دیں کہ جمعیۃ علماء ہند نے صدرجمعیۃعلماء مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء؍ کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو جس میں ا س نے ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا تھا کے خلاف سب سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔

First published: Feb 06, 2018 04:33 PM IST