ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بھوپال انکاونٹر کے خلاف جمعیتہ علما ہند کی ایم پی ہائی کورٹ میں مقدمہ درج کرانے کی تیاری

نئی دہلی ۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے گذشتہ روز دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ سیمی کے آٹھ کارکنان کو بھوپال جیل سے فرار ہونے کے بعد انکائونٹر میں ہلاک کر دئے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Nov 01, 2016 06:41 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بھوپال انکاونٹر کے خلاف جمعیتہ علما ہند کی ایم پی ہائی کورٹ میں مقدمہ درج کرانے کی تیاری
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی ۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے گذشتہ روز دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ سیمی کے آٹھ کارکنان کو بھوپال جیل سے فرار ہونے کے بعد انکائونٹر میں ہلاک کر دئے جانے کی سخت مذمت کی ہے اور سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس انکائونٹر کی غیر جانبدارانہ تفتیش کے لئے ’’ سو موٹو ‘‘کارروائی کرے اور اس معاملے کی انکوائری کے لئے عدالت کی نگرانی میں ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے تاکہ ملک بھر کے عوام بالخصوص مسلمانوں میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس انکاونٹر کی ویڈیو وائرل ہوجانے کے بعد تو انکاونٹر کے تعلق سے شک و شبہات مزید پختہ ہوگئے ہیں اور یہ بات محسوس کی جا رہی ہے کہ یہ انکاونٹر مدھیہ پردیش حکومت، جیل حکام، صوبائی پولس اور اے ٹی ایس کی ساز باز کا نتیجہ ہے۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ سیمی کا دہشت گرد بتا کر جیل میں ڈالے گئے ان مسلم نوجوانوں کے خلاف دراصل پولس کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائی تھی اور بتایا گیا ہے کہ عنقریب ہی یہ تمام ملزمان عدالت سے با عزت بری ہونے والے تھے، چونکہ فرقہ پرست افسران، جیل حکام اور پولس کا یہ شیوہ بن گیا ہے کہ اگر کوئی مسلم نوجوان عدالت سے با عزت بری ہوتا نظر آ رہا ہے تواسے کسی اور الزام میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا جائے یا پھر اس کا انکائونٹر کر دیا جائے ۔ ا س سے قبل دوبار ایسا ہو چکا ہے اور یہ تیسرا واقعہ ہے۔


انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی موجودہ حکومت میں مسلمانوں کویہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ا ب نہ تو ان کا دین محفوظ ہے اور نہ ہی جان۔اس لئے اب انصاف پانے کا عدلیہ ہی واحد سہارا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ خود اس معاملے میں مداخلت کرے تاکہ مظلومین کو انصاف مل سکے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ پولس کی بھوپال انکاونٹر کی کہانی فرضی ہے اس کا ثبوت ان ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور اب ملک بھر کے ٹی وی چینل پربھی دکھائے جا رہے ہیں ۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان خود سپردگی کرنے کو تیار ہیں اس کے باوجود پولس نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کر ڈالا جبکہ جیل سے فرار ہونے والے ملزمان کو عام طور سے زندہ گرفتار کیا جاتا ہے اور پھر ان پر جیل سے فرار ہونے کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے لیکن یہاں پولس نے کسی ایک کوبھی زندہ پکڑنے کی کوشش نہیں کی ؟، وجہ صاف ہے کہ اگر ان میں سے ایک دوبھی زندہ رہ جاتے توحقیقت سامنے آ جاتی۔


مولانا مدنی نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے جس طرح سے فرضی انکاونٹر کو اپنی حکومت کی بہت بڑی حصولیابی کے طور پر پیش کیا ہے اس سے ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بیدار ہوا ہے جو اس ملک کی قومی یکجہتی، اتحاد اور ہم آہنگی کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ، ان کے وزراء اور قومی میڈیا کے ذریعے مقتول نوجوانوں کوخطرناک دہشت گرد بتانا بھی آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے والا ہے کیونکہ ان پرپولیس نے دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا تھا لیکن عدالت میں وہ ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکی اور نہ ہی عدالت نے انہیں ابھی تک مجرم یا دہشت گرد قرار دیا تھا ۔ ایسے میں انہیں دہشت گرد نہیں کہا جا سکتا اور ان کے لئے قیدی یا ملزم لفظ کا استعمال ہی کیا جانا چاہئے لیکن یہاں بھی بی جے پی لیڈروں اور نام نہاد قومی میڈیا تعصب سے کام لے رہا ہے جوایک جمہوری ملک میں انتہائی شرمناک اور افسوناک بات ہے۔


صدر جمعیۃ علما نے جمعیۃ علما مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کو ہدایت دی ہے کہ اگر مہلوکین کے اہل خانہ چاہتے ہیں تو وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں انکاونٹرکرنے والے پولس عملہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور اس واردات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لئے پٹیشن داخل کریں ، جیسا کہ آندھرا میں پانچ مسلم نوجوانو ں کو انکاونٹر میں مار ے جانے کے خلاف حیدرآباد ہائی کورٹ میں عرضداشت زیر سماعت ہے۔

First published: Nov 01, 2016 06:38 PM IST