உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہشت گردی کے خلاف جمعیۃ علما ہند کا ملک بھر میں شدید احتجاج ، اسلام میں دہشت گردی کیلئے کوئی جگہ نہیں

    دہلی : دہشت گردی کے خلاف ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں جمعیۃ علماء ہند کے بینر تلے شدید مظاہرہ کیا گیا ۔

    دہلی : دہشت گردی کے خلاف ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں جمعیۃ علماء ہند کے بینر تلے شدید مظاہرہ کیا گیا ۔

    دہلی : دہشت گردی کے خلاف ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں جمعیۃ علماء ہند کے بینر تلے شدید مظاہرہ کیا گیا ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      دہلی : دہشت گردی کے خلاف ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں جمعیۃ علماء ہند کے بینر تلے شدید مظاہرہ کیا گیا ۔ دہلی ، اترپردیش ، حیدرآباد اور راجستھان سمیت ملک بھر میں جمعیۃ کے پرچم تلے مظاہرہ کیا گیا اور دہشت گردی کی ہر قسم کی شدید مذمت کی گئی ۔ ساتھ ہی مظاہرین نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا عہد بھی کیا۔


      دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کرتے ہوئے جمعیۃ کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا پیغام دینے والا مذہب ہے۔ اس کا تعلق دہشت گردی سے ہو ہی نہیں سکتا۔ مذہب اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ لہذا اس مذہب کے ماننے والوں کا تعلق دہشت گردی سے نہیں ہوسکتا اور جو لوگ جہاد کے نام دہشت گردی پھیلا رہے ہیں، دراصل وہ جہاد ی نہیں بلکہ فسادی ہے۔ مولانا نے کہا اسرائیل اور امریکہ داعش کی مدد اور حمایت کررہا ہے۔


      رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ملک کے مسلمان سڑکوں پر ہیں ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ داعش اسلام اور جہاد کے نام پر دہشت گردی پھیلارہے ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نے کہا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے اترپردیش حکومت کے کابینی وزیر اعظم خان کے بیان کی بھی شدید مذمت کی۔


      سابق جج ایم ایس اے صدیقی نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش اسلام اور مسلمان دونوں کو بدنام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے خلاف دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک بڑا محاذ کھولنے کی ضرورت ہے۔ صدیقی نے کہا کہ معصوموں کا قتل کسی بھی مذہب میں جائز نہیں اور سب کو سمجھنا ہوگا کہ داعش ایسا کیوں کر رہا ہے۔


      اتر پردیش میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ہر قیمت پر ملک کے تحفظ اوردہشت گردی کے خاتمے کا عہد کیاگیا۔ سید محمد وزین کی قیادت میں سیکڑوں لوگوں نے لکھنو کی مدنی بلڈنگ میں یہ عہد کیا کہ داعش یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے خلاف جمعیۃ کا ایک ایک رکن ملک کے تحفظ اور اسلام کے اصل پیغام کے لئے اپنی جان کی قربانیاں تک پیش کرنے کے لئے تیارہے۔


      میرٹھ میں بھی جمعیۃ علماء ہند کی ضلع اور شہر کمیٹیوں نے کلکٹریٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ جمعیۃ نے اس بات پر پر ہی عتراض کا اظہار کیا کی کسی بھی دہشت گردانہ حملے کے بعد پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ مسلمان دہشت گردوں کا بائی کاٹ کرکے پہلے بھی اپنے نظریه کا اظہار کرچکے ہیں۔دہشت گردی کے نام کا استعمال کرکے اسلام اور مسلمان کو بدنام کرنے پر افسوس کا بھی اظہار کیا گیا ۔


      حیدرآباد میں جمعیۃ علماء ہند نے ایک ریلی نکالنے کی کوشش کی ، لیکن انتظامیہ سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے جمعیۃ کے صدر برائے آندھر و تلنگانہ حافظ پیر شبیر نے نوجوانوں کے ساتھ جمعیۃ کے ریاستی دفتر کے قریب ہی دہشت گردانہ حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔ معروف تنظیم ہیلپ حیدرآباد کے صدر میجر قادری نے بھی پیرس حملوں کی سخت الفاظ میں مذمّت کی ۔


      مالیگائوں میں پیرس دہشت گردانہ حملہ کی مذمت کیلئے شہر کے نئے بس اسٹینڈ سے ریلی نکالی گئی اورایڈیشنل کلکٹر دفتر کے سامنے دھرنا دیا گیا ۔اس ریلی میں دہشت گر د مخالف تختیاں لے کر بڑی تعداد میں عوام شامل ہوئے ۔ ریلی کی قیادت مولانا عبدالحمید ازہری نے کی ۔شہر کے سبھی مسلک کے علماکرام اور سیاسی لیڈران اس ریلی میں شامل تھے ۔ ریلی شہر کے پرانے آگرہ روڈ سے گذرتی ہو ئی ایڈیشنل کلکٹر کے دفتر تک پہنچی ۔جہاں یہ ریلی دھرنے میں تبدیل ہو گئی ۔


      گجرات کے احمد آباد میں بھی جمعیۃ علماء ہند گجرات کی جانب سے نہرو برج پر احتجاج کیا گیا ، جس میں ہاتھوں میں بینر لیے بڑی تعداد میں جمعیۃ کے كاركنوں نے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ جس طریقے سے کسی بھی دہشت گردانہ حملے کے بعد لوگ اسلام پر انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں ، وہ غلط ہے۔ اسلام میں ایسے دہشت گردانہ حملے کو قطعی اجازت نہیں ہے اور جو بھی لوگ جہاد کے نام پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں ، ان کا اس مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ تو پھر لوگ اس امن کے مذہب پر سوال کیوں اٹھاتے ہیں ۔ احتجاج کے دوران لوگوں نے سوال بھی اٹھایا کی جس طریقے سے دیگر ملکوں میں مسلمانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے ، کہیں نہ کہیں یہ بھی ایک دہشت گرد انہ معاملہ ہی ہے۔


      مدھیہ پردیش میں بھوپال کے اقبال میدان میں جمعیۃ علماء ہندکے مقامی صدرحاجی محمد ہارون کی قیادت میں دھرنے کا اہتمام کیا گیا ، جس میں آئی ایس آئی کے امن کے خلاف ناپاک عزم اور اقدام کی پرزور مذمت کی گئی ۔


      راجستھان مین دارالحکومت جے پور میں جمعیۃ علما ہند کے بینر تلے بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔ علما کا کہنا تھا کہ پانی سر سے اوپر بہہ رہا ہے ۔ پوری دنیا دہشت گردی کی گرفت میں ہے اور ہر جگہ دہشت گردی کی آڑ لے کر اسلام کو بدنام کیا جا رہا ہے ۔جمعیۃ علماء راجستھان کے جنرل سکریٹری مولانا وحید کھتری نے احتجاج کے دوران کہا کہ دنیا میں دہشت گردی ختم کرنا ہوگا اور اس کے لئے ہم سب کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ملک مل کر شام پر بمباری کر دیں اس سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ وہاں بھی اس طرح کی بمباری میں صرف معصوم ہی مارے جائیں گے۔

      First published: