உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اچھے دن ہنوز دور،’برے دن‘سے گزررہا ہے ملک: سید جلال الدین عمری

    نئی دہلی ۔ امیر جماعت اسلامی ہند و معروف عالم دین مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ ہندستان میں مسلما نوں کی ایک بڑی تعداد اپنے پرسنل لا سے واقف نہیں ہے ۔

    نئی دہلی ۔ امیر جماعت اسلامی ہند و معروف عالم دین مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ ہندستان میں مسلما نوں کی ایک بڑی تعداد اپنے پرسنل لا سے واقف نہیں ہے ۔

    نئی دہلی ۔ امیر جماعت اسلامی ہند و معروف عالم دین مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ ہندستان میں مسلما نوں کی ایک بڑی تعداد اپنے پرسنل لا سے واقف نہیں ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی ۔ امیر جماعت اسلامی ہند و معروف عالم دین مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ ہندستان میں مسلما نوں کی ایک بڑی تعداد اپنے پرسنل لا سے واقف نہیں ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہند مسلمانوں میں نکاح، میراث، وصیت اور طلاق وغیرہ سے واقف کرانے کے لیے ملک گیر مہم چلائے گی۔ یہ بات مولانا عمری نے  جماعت اسلامی ہند کے دفتر میں منعقدہ ماہانہ پریس میٹ میں اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ طلاق کے مسئلہ پر مولانا عمری نے کہا کہ طلاق کا قرآنی طریق کار یہ ہے کہ اس کے اپنے کچھ شرائط اور مراحل ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک بار میں تین طلاق دے دے تو وہ طلاق قابل عمل ہو جاتی ہے۔ اس کی تصدیق معروف اسلامی اسکالرز اور علما کے ذریعہ کی جا چکی ہے۔


      پریس میٹ کی شروعات میں جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے متھرا کے پر تشدد واقعے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور متھرا کی خود ساختہ سینا اور بجرنگ دل کے ذریعہ اپنی دفاع کے نام پر کھلے عا م اسلحہ ٹریننگ کیمپ منعقد کیے جانے کی پر زور آواز میں مذمت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت کا یہ احساس ہے کہ موجودہ حکومت نے فرقہ واریت کو کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔ یہ تمام شر پسندانہ سرگرمیاں فرقہ وارانہ صف بندی اور انہیں خطوط پر سماج کو تقسیم کرنے کی قوائد ہے۔ اگر ایسا مسلسل ہوتا رہا اور اس معا ملے پر حکومت سنجید گی سے ایکشن نہیں لیتی ہے تو ریاست اور ملک میں
      انتشار اور کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ جماعت مرکزی حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس معاملات کو سنجیدگی سے لے اور ملک میں اقلیت طبقہ کے خلاف منافرت پھیلانے کی ٹرینگ د ینے والے کیمپوں پر روک لگائے ، ان کے لیڈران کو گرفتار کیا جائے اور حکومت ا س کھلی فسطائیت کے خلاف فوری کاروائی کرے۔


      محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ این ڈی اے کی مرکزی حکومت نے دوسال مکمل کر لئے ہیں لیکن ہنوز ’اچھے دن‘بہت دور ہیں۔ جماعت کا یہ بھی واضح موقف ہے کہ اس اثنا میں ملک کی عوام بالخصوص اقلیتیں، کمزور طبقات اور غربت و افلاس کے مارے لوگوں کی حالت ان دو سالوں میں مزید خستہ ہوئی ہے اور ان کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لئے مودی حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا ۔حکومت کا’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کا نعرہ بالکل کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سے پاک، کرپشن فری اور اچھی طرز حکمرانی (گڈ گورننس) کا غلغلہ مودی حکومت نے بہت بلند کیا ،لیکن اس دعوے کی تکمیل میں بھی حکومت بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ مودی حکومت کے دوبرسوں میں بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بدعنوانی کے بڑے معاملات سامنے آئے ، لیکن حکومت نے ان ریاستوں کے وزرائے اعلی کی پوری پشت پناہی کی، بدعنوانی کے معاملات پر چشم پوشی کی اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے کابینی وزرا پر بدعنوانی میں شامل رہنے یا بدعنوانوں کی مدد کرنے کے الزامات عائد ہوئے۔مختصریہ کہ اس محاذ پر بھی مرکز نے ’راج دھرم‘نہیں نبھایا۔

      First published: