Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

    کشمیر میں لڑکی کی آبرو اتارنے کی کوشش  کے بعد  دل دہلانے  والا واقعہ، 20سالہ نوجوان کی زبان ہی کاٹ ڈالی

    شمالی کشمیر کے پٹن علاقے میں لڑکی کی آبرو اتارنے کی کوشش کے بعد دل دہلانے والا واقعہ سامنےآیا۔ ؎لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے بعد بیس سالہ نوجوان کی زبان ہی کاٹ ڈالی گئی۔ یہاں جانیے پورا واقعہ

    • Share this:
    کشمیر میں لڑکی کی آبرو اتارنے کی کوشش  کے بعد  دل دہلانے  والا واقعہ، 20سالہ نوجوان کی زبان ہی کاٹ ڈالی
    متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ شوہر نے سازش رچ کر اس کی آبروریزی کروائی اور اس کے بعد کسی کو بتانے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی ۔ علامتی تصویر ۔

    شمالی کشمیر کے پٹن علاقے میں لڑکی کی آبرو اتارنے کی کوشش  کے بعد ایک دل دہلانے  والا واقعہ پیش آیا ہے۔لڑکی  کے ساتھ   چھیڑ چھاڑ کی پاداش میں  بیس  سالہ نوجوان کی زبان  ہی کاٹ ڈالی گئی۔ یہ کام کسی انجان یا کسی دور دراز  علاقے کے لوگوں نے انجام نہیں دیا بلکہ  ہمسایہ لڑکی اور اس کے گھر والوں  نے انجام دیا۔ بتایا جاتا ہے  کہ بیس سالہ  نوجوان نے ہمسایہ کی ایک لڑکی  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ وہ بھی رات کی اندھیری میں  جس پر لڑکی اور ان  کے اہل خانہ آگ بگولہ ہوگئے تھے اور انہوں نے بیس سالہ  لڑکے کو موقع پر ہی دبوچ لیا اور  اس کو خوب  مارا پیٹا۔ جب مار پیٹ سے تسلی نہیں ملی اور نہ ہی غصہ ٹھنڈا ہوا تو پھر ایسا کا م انجام دیا جسے سنتے ہی  ہر کوئی  انگشت بدنداں ہوکر رہ جاتا ہے۔ یعنی اس  بیس سالہ نوجوان لڑکے کی زبان ہی کاٹ ڈالی  گئی۔ نوجوان لڑکے کے والد نے نیوز18اردو کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد جب  ان کا بیٹا اپنے گھر پہنچا تو وہ   اپنے آپ پر گزری حالت زار  بیان   کرتے  لیکن  اس کے اندر قوت ہی نہیں تھی۔

    تاہم  اس نوجوان نے اشاروں اشاروں میں  اپنے گھروالوں کو پورے واقعے سے  واقف کرایا۔ گھروالوں نے فوراً   اس نوجوان کو  علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال پہنچایا۔ نوجوان لڑکے کی کاٹی  گئی  زبان کو ٹھیک کرنے کی غرض سے   ڈاکٹروں نے کانٹے لگائے ہیں۔ نوجوان کے اہل خانہ نے  پولیس اسٹیشن ماگام میں اس حادثہ کے بارے میں  شکایت درج کرائی  اور ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 88/2020درج کرائی۔ نوجوان  لڑکے کے اہل خانہ نے لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام کو مسترد کیا نوجوان کے والد نے  فون پر نیوز18اردو کو بتایا کہ یہ جان لیوا حملہ  اراضی کی خرید و فروخت کے معاملے کی آڑ میں کیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ  حملہ آوروں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایک بہانہ بنایا ہے۔ ادھر لڑکی کے چاچا نے فون پر نیوز 18اردو کو بتایا کہ وہ دان پنیری لگانے کے سلسلے میں کھیتی پر گئے ہوئے تھے جب وہ گھر واپس لوٹے تو ان کی بیٹی نے ان کے ساتھ پیش آئے  واقعہ کو  بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے اس لڑکے ساتھ  یہ حرکت انجام دی انہیں اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں۔ انہوں نے مزید  بتایا کہ زبان نہیں کاٹی گئی بلکہ زبان میں کچھ زخم لگے ہوئے ہیں۔ لڑکی کے چاچا نے  اراضی کی خرید و فروخت  کے معاملے کو مسترد کیا۔  انہوں نے کہا کہ  ایسا کچھ نہیں ہے یہ ہمارے ہمسایہ ہیں  اور ہم ایک ساتھ  رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کی خرید و فروخت  کے سلسلے میں کوئی سچائینہیں ہے۔ لڑکی نے جو آپ بیتی  بیان کی اس کے مطابق لڑکی اپنے  گھر کے نزدیک ہی ایک چھوٹی نہر پر پرتن دو رہی تھی اسی دورا ن اس لڑکے نے اس سے پکڑنے کی کوشش کی جس کے بعد  لڑکی اور ان کے گھروالے  لڑکے کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے لڑکے کی جانب سے اس ناجائز حرکت  سے متعلق   ان کے والدین کو واقف کرایا ۔ ادھر جب پولیس کیس درج کرنے کی خبر  لڑکی کے گھر والوں کو موصول ہوئی تو انہوں نے بھی ماگام پولیس اسٹیشن کا رخ کیا  اور نوجوان لڑکے کے  خلاف ایف آئی آر زیر نمبر89/2020 درج کرائی۔

    اس طرح دونوں فریقین کا معاملہ پولیس اسٹیشن ماگام میں ہے ۔ پولیس ہر زاویے سے اس معاملے کی جانچ کررہی ہے ۔بودی بگ پٹن گاؤں کے   کئی مقامی لوگوں نےنیوز18اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ  چھیڑ چھاڑ کرنے پر قانون کے مطابق  سخت کاروائی ہونی چاہے  ۔تاہم  لوگ زبان  کاٹنے کے عمل کو ناجائز اور سنگ دلانہ  حرکت  قرار دیتے ہیں  ۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے  کہ ہر ایک کی  آب رو  سلامت رہے ایک شخص نے نیوز 18 اردو  کو  ضرب مثل کہہ کر کہا کہ آپ بھلے تو جگ بھلایعنی انسان خود اچھا ہو تو دنیا اس کے ساتھ اچھا برتاؤکرتی ہے ۔بحرحال  اس دلخراش اور دل دہلانے  واقعے کی  حقیقت  کو طشت از بام کرنے کے لئے  پولیس کی ٹیم   ہر زاویے سے جانچ کررہی ہے  ۔دیکھنا یہ ہے کہ  کب تک پولیس   بودی بگ پٹن   میں پیش آئے دلخراش  واقعہ کی  چھان بین  مکمل کر کے اصل حقائق کو سامنے  لاکرملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچاسکے۔۔

    First published: Jun 04, 2020 02:18 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading