ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں و کشمیر : اسمبلی اسپیکر نے کہا : فوجی کیمپ پر حملہ میں روہنگیا پناہ گزینوں کے ہاتھ ہونے کا شک ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا شدید احتجاج

جموں وکشمیر اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا کے اس بیان کی اپوزیشن پارٹیوں نے شدید تنقید کی ہے ، جس میں انہوں نے کہا کہ جموں کے مضافاتی علاقہ سنجوان میں واقع 36 بریگیڈ فوجی کیمپ پر فدائین حملہ علاقہ میں روہنگیا مسلمانوں کی موجودگی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 10, 2018 12:46 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جموں و کشمیر : اسمبلی اسپیکر نے کہا : فوجی کیمپ پر حملہ میں روہنگیا پناہ گزینوں کے ہاتھ ہونے کا شک ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا شدید احتجاج
فائل فوٹو

جموں: جموں وکشمیر اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا کے اس بیان کی اپوزیشن پارٹیوں نے شدید تنقید کی ہے ، جس میں انہوں نے کہا کہ جموں کے مضافاتی علاقہ سنجوان میں واقع 36 بریگیڈ فوجی کیمپ پر فدائین حملہ علاقہ میں روہنگیا مسلمانوں کی موجودگی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے اسپیکر کی جانب سے اسمبلی میں دیے گئے اس بیان پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر کی جانب سے ایک مخصوص کیمونٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ہفتہ کی صبح جوں ہی قانون ساز اسمبلی کی کاروائی شروع ہوئی تو حکمران جماعت بی جے پی کے بیشتر ممبران اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پاکستان کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کردی، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کیلئے روک دی گئی ۔ اس دوران ایوان کی کارروائی جب شروع ہوئی تو اسپیکر کویندر گپتا جوکہ گاندھی نگر حلقہ انتخاب سے بی جے پی رکن اسمبلی ہیں، نے کہا ’جس جگہ یہحملہ ہوا ہے ، وہاں آس پاس روہنگیا پناہ گزیں بھی رہتے ہیں ۔ ایسے میں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ حملہ میں روہنگیا پناہ گزینوں کا استعمال کیا گیا ہوگا ۔

اسپیکر کے اس بیان کی ایوان میں موجود اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین نے شدید تنقید کی اور ایوان کے وسط میں پہنچ کر اسپیکر کے سامنے جاکر زوردار احتجاج کرنے لگے۔ اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ اسپیکر کی جانب سے ایک مخصوص کیمونٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسپیکر صاحب اپنے ریمارکس پر معافی مانگیں۔ بصورت دیگر ہم ایوان کی کاروائی کو چلنے نہیں دیں گے‘۔

خیال رہے کہ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق جموں کے مختلف حصوں میں مقیم میانمار کے تارکین وطن کی تعداد 5 ہزار 700 ہے۔ یہ تارکین وطن جموں میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں۔ ایڈوکیٹ ہنر گپتا جو کہ بی جے پی کی لیگل سیل کے ممبر بھی ہیں، نے ریاستی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کر رکھی ہے جس میں عدالت سے جموں میں مقیم روہنگیائی تارکین وطن اور بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کرکے انہیں جموں بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

First published: Feb 10, 2018 12:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading