ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں۔کشمیر: بجبہاڑہ اننت ناگ حملے میں 5 سال کے معصوم بچے کی موت سے پھیلی سنسنی، والدین کا ہوا برا حال

بجبہاڑہ اننت ناگ میں ہویئ فائرنگ کے واقعہ میں کمسن نہان یاسین بٹ کی موت نے پوری انسانیت کو دہلا دیا۔ ریاست جموں و کشمیر کے نامساعد حالات کے دوران اس طرح کا شاید ہی کوئی واقع پیش آیا ہو جہاں ایک کمسن کی جان چلی گئی۔

  • Share this:
جموں۔کشمیر: بجبہاڑہ اننت ناگ حملے میں 5 سال کے معصوم بچے کی موت سے پھیلی سنسنی، والدین کا ہوا برا حال
بجبہاڑہ اننت ناگ میں ہویئ فائرنگ کے واقعہ میں کمسن نہان یاسین بٹ کی موت نے پوری انسانیت کو دہلا دیا۔ ریاست جموں و کشمیر کے نامساعد حالات کے دوران اس طرح کا شاید ہی کوئی واقع پیش آیا ہو جہاں ایک کمسن کی جان چلی گئی۔

کولگام: بجبہاڑہ اننت ناگ میں ہویئ فائرنگ کے واقعہ میں کمسن نہان یاسین بٹ کی موت نے پوری انسانیت کو دہلا دیا۔ ریاست جموں و کشمیر کے نامساعد حالات کے دوران اس طرح کا شاید ہی کوئی واقع پیش آیا ہو جہاں ایک کمسن کی جان چلی گئی۔ مانچھوا یاری پورہ کولگام میں جہاں ہر آنکھ نم ہے اور ہر سو صف ماتم وہی یہاں ہر ایک چہرہ اُداس نظر آرہا ہے۔ مرد و زن بچے بوڑھے کمسن نہان یاسین کی موت سے غمزدہ ہیں۔

نہان کے پوپھا نثار احمد نے بتایا کہ وہ اور نہان کے والد محمد یاسین بٹ دفترکے کام سے بجبہاڑہ اننت ناگ گئے اور ایسے میں یہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور اس طرح ماروتی کار میں ہی نہان گولی کا شکار بن گہا۔ وہیں اس کی موت واقع ہوئی۔ ۲ اکتوبر کو نہان کا جنم ہوا اور یہ وہی دن ہے جس دن انسانیت کے علمبراد گاندھی جی کا بھی جنم ہوا اور محض چار سال اور کچھ مہینے کے نہان کا انتقال ہوا اور وہ اس دنیا فانی سے پہلے ہی کوچ کر گی۔ نہان ابھی اسکول نہیں گیا تھا جبکہ اسکے اسکول جانے کی تیاریاںشروع ہو گئی تھیں۔


نہان کے استاذ نظیر احمد کا کہنا ہے کہ کمسن نہان یاسین نہایت ہی ذہین اور قابل بچہ تھا اور اسے پڑھنے کی خواہش تھی۔ نہان یاسین کے گھر کی دیواریں اپنی زبوں حالی کی داستان بیان کر رہی ہیں اور یہاں سے نہان یاسین نے پین اور پینسل سے لکیریں کھینچنے کی کوشش کی ہے اور اسکول کی شروعات کی ہے ۔نہان کے استاذ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ صدمہ شاید ہی کوئی والدین برداشت کر سکیں، مگر ضرورت اس بات کی یہ کہ ایسے خون خرابہ سے کیا حاصل جہاں بچوں کی جان چلی جائے اور پھول کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جایئں۔ اہل خانہ اور پوری آبادی میں صف ماتم بچھ گئی ہے جبکہ محمد یاسین جو کہ سرکاری ٹیچر ہے اور بحثیت فزیکل ایجوکیشن استاذ کام کر رہا ہے پر سکتہ طاری ہے۔



بتادیں کہ محمد یاسین کی دو بیٹوں کے بعد نہان کا جنم ہوا تھا اور اس وقت محمد یاسین اس صدمہ کو برداشت نہیں کر پا ر ہے ہیں۔ فائرنگ کے واقعہ سے صاف ظاہر ہوا کہ گولی کسی کی بھی ہو اور کہیں سے بھی چلے، قتل انسانیت کا ہوتا ہے انسان کا ہوتا ہے۔  لوگ اس جنگ و جدل سے نجات پانے کی دُعا کر رہے ہیں اور مستقبل میں ایسے نھنے پھول کچلے نہ جایئں مسلے نہ جایئں اس کے لئے دعا مانگ رہے ہیں۔

(کولگام سے ظہور رضوی کی رپورٹ)
First published: Jun 28, 2020 07:37 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading