உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو ابھی نہیں ملےگی راحت، ابھی رہیں گے نظربند

    فاروق عبداللہ کو ابھی نہیں ملےگی راحت

    فاروق عبداللہ کو ابھی نہیں ملےگی راحت

    جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 کے تمام التزام ختم کئے جانےکےبعد انتظامیہ نے ریاست میں کئی طرح کی پابندیاں عائد کی تھیں۔ نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کو ابھی بھی راحت نہیں ملےگی۔ انتظامیہ انہیں تین ماہ اورنظربند رکھےگی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کو ابھی راحت نہیں ملےگی۔ انتظامیہ انہیں تین ماہ اورنظربند رکھےگی۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت انہیں اگست سے نظربند رکھا گیا ہے۔ ان کےعلاوہ ان کے بیٹےاورسابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اورمحبوبہ مفتی کوبھی نظربند کیا گیا ہے۔ جموں وکشمیرکےدوسرے لیڈروں کو بھی 11 اگست کےبعد انتظامیہ نےنظربند کردیا ہے۔

      جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 کےالتزامات ختم کئے جانے کے بعد انتظامیہ نے ریاست میں کئی طرح کی پابندیاں لگا دی تھیں۔ حالانکہ بعد میں ان پابندیوں کو ایک ایک کرکےہٹا دیا گیا، لیکن انٹرنیٹ اورموبائل خدمات کشمیرمیں اب بھی متاثرہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہےکہ جلد ہی ان پابندیوں کوبھی ہٹا دیا جائےگا۔ دوسری جانب جموں وکشمیرمیں حالات معمول پرآرہے ہیں۔حالانکہ ناگہانی حالات کے سبب سیکورٹی انتظامات میں اب بھی نرمی نہیں کی گئی ہے۔

      جموں وکشمیرمیں بازاراوراسکول معمول کے مطابق کھل رہے ہیں۔ سرکاری دفاترمیں بھی کام کاج شروع ہوگیا ہے، لیکن انتظامیہ نے وہاں کے مقامی لیڈروں کوابھی باہرنکالنےکی چھوٹ نہیں دی ہے۔ اس درمیان سپریم کورٹ کےججوں نےاپنی رپورٹ میں انتظامیہ کےاس دعوے کوصحیح نہیں پایا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اگست کے بعد عائد پابندیوں کے بعد انتظامیہ نے نابالغوں کوحراست میں لےلیا تھا۔ ججوں نے ریاست کےسبھی جیلوں کا دورہ کر کے رپورٹ میں کہا ہےکہ جیلوں میں کوئی بھی نابالغ نہیں ملا ہے۔

      First published: