ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ایکسکلوزو رپورٹ: بانڈی پورہ میں آئی سی ڈی ایس کے ہیڈ کلرک نے کیا انتہائی گھٹیا کام، ایسے ہوا بڑا انکشاف

بانڈی پورہ میں آئی سی ڈی ایس محکمے میں ایک ہیڈ کلرک کی جانب سے اپنے افسر کے جعلی دستخط کرکے چھ لاکھ سے زائد روپیے نکالنے کے معاملے میں تحقیقاتی رپورٹ نیوز 18 اردو کے ہاتھ لگی ہے۔

  • Share this:
ایکسکلوزو رپورٹ: بانڈی پورہ میں آئی سی ڈی ایس کے ہیڈ کلرک نے کیا انتہائی گھٹیا کام، ایسے ہوا بڑا انکشاف
بانڈی پورہ میں آئی سی ڈی ایس محکمے میں ایک ہیڈ کلرک کی جانب سے اپنے افسر کے جعلی دستخط کرکے چھ لاکھ سے زائد روپیے نکالنے کے معاملے میں تحقیقاتی رپورٹ نیوز 18 اردو کے ہاتھ لگی ہے۔

بانڈی پورہ میں آئی سی ڈی ایس محکمے میں ایک ہیڈ کلرک کی جانب سے اپنے افسر کے جعلی دستخط کرکے چھ لاکھ سے زائد روپیے نکالنے کے معاملے میں تحقیقاتی رپورٹ نیوز 18 اردو کے ہاتھ لگی ہے۔ واضح رہے 18 دسمبر 2019 کو بانڈی پورہ میں آئی سی ڈی ایس کے ہیڈ کلرک کی جانب سے اپنے محکمے کے اکاؤنٹ سے اپنے افسر کے جعلی دستخط کرکے روپیے نکالنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ 19 دسمبر کو اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے نور محمد خان نامی اس ہیڈ کلرک کے خلاف کاروائی کرکے اسے فوری طور معطل کرکے اسے گریز اٹیچ کردیا تھا ۔ جب کہ ADC بانڈی پورہ ظہور احمد میر کی قیادت میں ایک تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی۔


اسی اثنا میں مذکورہ ہیڈ کلرک نے تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر سرکاری کھاتے سے 620660 روپیے جعلی دستخط کرکے نکالنے کی بات قبول کو قبول کر لیا ہے۔




اس اقبال جرم کے بعد مذکورہ ہیڈ کلرک نے چند دنوں کے اندر ہی سرکاری کھاتے میں نکالی گئی رقم دوبارہ جمع کرالی ۔ اس دوران تحقیقاتی کمیٹی نے آئی سی ڈی ایس کے مشن ڈائریکٹر کو تحقیقاتی رپورٹ روانہ کرنے کے علاوہ کچھ سفارشات بھی کیں ۔ ان سفارشات میں مذکورہ ہیڈ کلرک کی پرموشن پر تین سال تک پابندی کے علاوہ اس کی اکاؤنٹس شعبے میں تعیناتی پر روک شامل ہے۔

ادھر ایک جولائی کو تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور ADC بانڈی پورہ ظہور احمد میر کو عارضی طور پر DC بانڈی پورہ کا چارج دیا گیا اور اسی دوران انہوں نے مذکورہ ہیڈ کلرک کو فوری طور پر نہ صرف بحال کردیا بلکہ اس کا معطلی کا دورانیہ بھی آن ڈیوٹی تصور کیا گیا اور یوں یہ تحقیقاتی عمل لوگوں کے سامنے ایک مزاق بن کر رہ گیا ۔ عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی بے ظابطگیوں میں ملوث لوگوں کو نوکریوں سے ہی برطرف کردینا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی خزانہ عامرہ کو لوٹنے کی جرات نہ کرسکے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 11, 2020 09:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading