ہوم » نیوز » امراوتی

جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر پابندی پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان فکسڈ میچ : عمر عبداللہ

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر پابندی کو پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان فکسڈ میچ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی پر پابندی دونوں پارٹیوں کی ملی بھگت ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 18, 2019 07:01 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر پابندی پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان فکسڈ میچ : عمر عبداللہ
عمر عبداللہ ۔ فائل فوٹو ۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر پابندی کو پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان فکسڈ میچ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی پر پابندی دونوں پارٹیوں کی ملی بھگت ہے تاکہ بی جے پی والے ملک میں اس کا ڈھنڈورا پیٹ سکیں جبکہ دوسری جانب قلم دوات جماعت والے وادی میں اس پر وایلا کرسکیں اور دونوں جماعتیں اس سے فائدہ حاصل کرسکیں'۔


ان باتوں کا اظہار انہوں نے پیر کے روز دمہال ہانجی پورہ نورآباد میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع سے پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈران مبارک گل، سکینہ ایتو، نذیر احمد خان گریزی، ڈاکٹر بشیر احمد ویر، الطاف احمد کلو، پیر محمد حسین، شیخ محمد رفیع، عمران نبی ڈار، ایڈوکیٹ ریاض احمدخان اور صفدر علی خان کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔


عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 'نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کے لئے آج بھی تمام حربے استعمال ہوں گے اور تمام کوششیں کی جائیں گی ، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری شناخت اور پہچان کو نقصان تب ہوتا ہے جب یہ لوگ نیشنل کانفرنس کو اقتدار سے باہر رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں، جب بھی یہاں مرکز کا کوئی قانون لاگو ہوا تب یہاں نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی، زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ، یہاں جی ایس ٹی ، سرفیسی ایکٹ اور فوڈ ایکٹ لگا کیونکہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی، این آئی اے کے مقدمے چل رہے ہیں کیونکہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی، میں یہاں تک کہوں گا کہ جماعت اسلامی پر پابندی لگی کیونکہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی'۔


انہوں نے کہا کہ میں بھی 6 سال تک اس ریاست کا وزیر اعلیٰ رہا، میں نے بھی ایک مشکل دور سے اس ریاست کو نکالا ہے، اگر جماعت اسلامی پر پابندی لگانا ہی اس ریاست کو مشکل سے نکالنے کا راستہ تھا تو مجھے وہ راستہ اپنانے کی ضرورت کیوں نہیں پڑی۔ جب 2010میں حالات خراب ہوئے، ہم نے حالات کو دوبارہ حالات کو پٹری پر لایا ، لیکن ہم نے جماعت پر کوئی روک نہیں لگائی، اُن کے اسکول چلے، تمام ادارے چلے اور اُن کے لیڈر بھی میدان میں سرگرم رہے۔
First published: Mar 18, 2019 07:01 PM IST