ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں کے چیسٹ ڈیزیز اسپتال میں بیڈ میسر نہ ہونے کا لوگوں نے لگایا الزام ، اسپتال انتظامیہ نے کی تردید

Jammu and Kashmir News : میڈیکل سپرنٹینڈنٹ نے کہا کہ ان کے اسپتال میں لگ بھگ 450 مریض داخل ہیں اور ابھی بھی ان کے پاس ایک درجن سے زیادہ بیڈ خالی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دن میں دو تین مرتبہ ڈاکٹر کووڈ وارڈ میں جاکر بیماروں کی تشخیص کرتے ہیں اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کو اسپتال سے رخصت کیا جاتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں مزید بیڈ خالی ہو جاتے ہیں ۔

  • Share this:
جموں کے چیسٹ ڈیزیز اسپتال میں بیڈ میسر نہ ہونے کا لوگوں نے لگایا الزام ، اسپتال انتظامیہ نے کی تردید
جموں کے چیسٹ ڈیزیز اسپتال میں بیڈ میسر نہ ہونے کا لوگوں نے لگایا الزام ، اسپتال انتظامیہ نے کی تردید

جموں و کشمیر: جموں کے چیسٹ ڈیزیز اسپتال میں پریشان اور مایوس کن مناظر دیکھنے کو ملے ۔ اسپتال احاطے میں کورونا سے متاثرہ کئی مریض مشکل حالات میں دیکھے گئے ۔ حالانکہ یہ افراد اس امید کے ساتھ اسپتال پہنچے تھے کہ وہاں انہیں فی الفور علاج و معالجہ کی سہولیات مہیا کرائی جائیں گی ۔ تاہم اسپتال پہنچنے پر انہیں مایوسی ہاتھ لگی ۔ اسپتال کے لان میں کئی تیماردار بیماروں کو اسٹریچر اور کچھ کو زمین پر لٹا کر آکسیجن سپلائی مہیا کراتے ہوئے دیکھے گئے ۔ تیمارداروں نے الزام لگایا کہ اسپتال انتظامیہ نے انہیں بیڈ فراہم نہیں کیا ، جس کی وجہ سے وہ کھلے آسمان تلے اپنے بیماروں کی تیمارداری پر مجبور ہوگئے ۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال انتظامیہ نے انہیں اپنے مریض کو واپس گھر لے جانے کے لیے کہا ہے ۔


ایک تیماردار نے کہا کہ میں مریض کو یہاں لیکر آیا ، لیکن اسپتال انتظامیہ کی طرف سے مجھے کہا گیا کہ دوا لے لو اور مریض کو گھر لے جاؤ ۔ میں اس کو گھر لے جا کر کیا کروں گا ، اس کو دوا سے زیادہ آکسیجن بیڈ کی ضرورت ہے ۔ ہم کیا کریں اور کہاں جائیں۔ ادھر اس معاملہ کو لیکر اسپتال کے سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر راکیشور شرما نے کہا کہ چیسٹ ڈیزیز اور دیگر منسلک اسپتالوں میں بیڈ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیڈ ملنے کیلئے مریض کو 10 سے 15 منٹ کیلئے انتظار کرنا پڑا ہو، لیکن کسی کو بھی مریض واپس لے جانے کیلئے نہیں کہا گیا ۔


انہوں نے کہا کہ ان تمام مریضوں کو اسپتال انتظامیہ کی طرف سے ہی آکسیجن سلنڈر فراہم کئے گئے ۔ تاکہ انہیں کوئی پریشانی نہ ہو ۔ ڈاکٹر شرما نے کہا کہ سی ٹی اسکین اور دیگر لازمی ٹیسٹ کرنے کیلئے مریض کو 15 سے 30 منٹ تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ کیونکہ مریض کافی تعداد میں اسپتال کا رخ کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک اس بات کی تصدیق نہ ہو کہ مریض کو آکسیجن بیڈ کی ضرورت ہے تب تک اسے انتظار کرنا پڑ سکتا ہے ۔


میڈیکل سپرنٹینڈنٹ نے کہا کہ ان کے اسپتال میں لگ بھگ 450 مریض داخل ہیں اور ابھی بھی ان کے پاس ایک درجن سے زیادہ بیڈ خالی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دن میں دو تین مرتبہ ڈاکٹر کووڈ وارڈ میں جاکر بیماروں کی تشخیص کرتے ہیں اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کو اسپتال سے رخصت کیا جاتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں مزید بیڈ خالی ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ محکمہ کے پاس درکار تمام معقول انفراسٹرکچر موجود ہے ۔ ڈاکٹر راکیشور شرما نے کہا کہ بھگوتی نگر یوتھ ہوسٹل نگروٹہ اور مزید چار پانچ مقامات پر کووڈ سینٹر قائم ہیں ، جہاں ان مریضوں کو داخل کیا جا سکتا ہے ، جن کی حالت مستحکم ہو۔

واضح رہے کہ موجودہ صورتحال کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف اسپتالوں میں آکسیجن اور بیڈس کی کمی کے حوالے سے شکایات موصول ہونے کے بعد سرکار نے ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات اٹھائے ۔ جبکہ اسپتالوں میں کووڈ سے نمٹنے کیلئے درکار بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے کیلئے بھی انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے ۔ محکمہ صحت کے مطابق اسپتالوں اور کووڈ مراکز میں مریضوں کو ہر طرح کی سہولیات بہم پہنچانے کی متعلقین کو سخت ہدایت دی گئی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 06, 2021 05:29 PM IST