ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں وکشمیر کی مسجدوں کی پولیس سے مانگی گئی فہرست، ہنگامہ ہونے پرحکومت نے بتایا 'افواہ'۔

پولیس محکمہ نےاپنے سبھی ایس پی لیول کے افسران کومسجدوں کے بارے میں کچھ تفصیلات کومسجدوں کے بارے میں کچھ تفصیلات جمع کرنے کے لئے ایک نوٹس بھیجا ہے، لیکن حکومت نے آرٹیکل 35 اے ہٹانے کی تیاری کی بات کو افواہ بتایا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر کی مسجدوں کی پولیس سے مانگی گئی فہرست، ہنگامہ ہونے پرحکومت نے بتایا 'افواہ'۔
علامتی تصویر

جموں وکشمیرپولیس نے پیرکوکشمیروادی میں واقع مساجد کے بارے میں چھوٹی سی چھوٹی اطلاع طلب کی  ہے۔ ضلع سطحی پولیس ہیڈ کوارٹر، سری نگرمیں راجدھانی میں واقع سبھی ایس پی سطح کے افسران کومقامی مساجد کے بارے میں تفصیلات جمع کرنےکوکہا گیا ہے۔ اس حکم میں کہا گیا ہے کہ اپنے علاقے میں آنے والی مساجد اوراس کی انتظامیہ کے بارے میں تفصیلات جمع کریں۔  جن چیزوں کی اطلاع مانگی گئی ہے، اس میں مساجد کے نام، نظریاتی جھکاؤ، مقامی امام کا نام اورانتظامی کمیٹی کے سربراہ کا نام پوچھا گیا ہے۔ ایسے عمل کو پوری وادی میں دوہرانےکےلئےکہا گیا ہے۔


یہ نیا حکم نامہ پہلے کے مرکزی وزیرداخلہ کے جموں وکشمیرمیں 10 ہزارسیکورٹی اہلکاروں کے اضافہ کے فیصلے کے بعد آیا ہے۔ ساتھ ہی مقامی پولیس کے افسروں کو بھی ہمیشہ محتاط رہنے کے لئے کہا گیا ہے اورساتھ ہی جموں وکشمیر میں آگے چل کرلا اینڈ آرڈر بگڑنے کے آثار دیکھتے ہوئے محتاط رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔


دراصل اس حکم کی کی کاپی سوشل میڈیا پرآتے ہی یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ حکومت آرٹیکل 35 اے کوہٹانے کے لئے ایسا کررہی ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیرپولیس نے اس طرح کی تفصیلات جمع کرنے کومعمول کا عمل قراردیا ہے۔ جبکہ گورنرستیہ پال ملک کے مشیر وجےکمارنے آرٹیکل 35 اے ہٹانے کی بات پراے این آئی سے کہا ہے 'اگرکوئی سوشل میڈیا پرہلچل یا افواہ پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تومیں اس کا جواب نہیں دوں گا۔ اس افواہ کا ماخذ کیا ہے؟ میرے لئے ہرچیزپرجواب دینا ممکن نہیں ہے'۔


سری نگرمیں سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ

سری نگرمیں حال ہی میں سی آرپی ایف کی ٹکڑیاں لے کردو خصوصی طیارے پہنچے ہیں۔ کچھ قافلے جموں اورسری نگرقومی شاہراہ سے بھی وادی جارہے ہیں۔ وہیں موجودہ وقت میں وادی میں امرناتھ یاترا چل رہی ہے اوردیگرسیکورٹی وجوہات سے سی آرپی ایف کی 450 کمپنیوں میں شامل 40 ہزارفوجی پہلے سے ہی تعینات ہیں۔ اس تعداد میں کاونٹر ایسرجینسی (بغاوت)، قومی رائفلس کی طاقت شامل نہیں ہے، جودہشت گردی مخالف مہم کو انجام دیتی ہے۔ اورمشکل حالات میں ریاستی پولیس اورسی آرپی ایف کی مدد کرتی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے ایک حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ فوج کاونٹرانسرجینٹ گرڈ کومضبوط کرنے اور وادی میں لااینڈ آرڈربنائے رکھنے کے لئے تعینات ہوگی۔ وہیں جموں وکشمیر پولیس نے کہا کہ جوانوں کوشمالی کشمیرمیں تعینا کیا جائے گا، جہاں سیکورٹی ابھی بھی چیلنج بنا ہوا ہے۔
First published: Jul 29, 2019 09:37 PM IST