உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں گورنر راج ہوا ختم، صدارتی راج نافذ

    صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند: فائل فوٹو۔

    صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند: فائل فوٹو۔

    صدر راج نافذ ہونے کے بعد گورنر کی طاقتیں پارلیمنٹ کے پاس رہیں گی اور قانون بنانے کا حق پارلیمنٹ کے پاس ہوگا۔

    • Share this:
      جموں و کشمیر میں 19 دسمبر کے روز گورنر راج کے چھ ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اب صدر راج نافذ ہو گیا ہے۔ گورنر کی رپورٹ پر مرکزی حکومت نے پیر کے روز ہی صدر راج نافذ کرنے کی سفارش دی تھی۔ افسران نے کہا کہ جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک کے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش والی رپورٹ مرکزی حکومت کو بھیجنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

      قابل غور ہے کہ اس سے قبل جموں وکشمیرمیں صدر راج 1990 سے 1996 تک نافذ تھا۔ غورطلب ہے کہ محبوبہ مفتی کی حکومت گرنے کے بعد جموں وکشمیرمیں گورنرراج  نافذ ہو گیا تھا۔

      صدارتی راج نافذ ہونے کے بعد کیا ہوگا؟
      صدر راج نافذ ہونے کے بعد گورنر کی طاقتیں پارلیمنٹ کے پاس رہیں گی اور قانون بنانے کا حق پارلیمنٹ کے پاس ہوگا۔ اصولوں کے مطابق صدر راج میں بجٹ بھی پارلیمنٹ سے ہی پاس ہوتا ہے۔ اس وجہ سے گورنر راج میں ہی تقریبا 89 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ پاس کرا لیا گیا۔
      گورنر راج میں قانون بنانے اور بجٹ پاس کرنے کا حق گورنر کے پاس ہوتا ہے۔ صدر راج میں اب گورنر اپنی مرضی سے پالیسی اور آئینی فیصلے نہیں کر پائیں گے۔ اس کے لئے انہیں مرکز سے اجازت لینی ہوگی۔
      واضح رہے کہ بی جے پی نے جون میں پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی، جس کے بعد محبوبہ مفتی کی حکومت گرگئی تھی۔ تبھی سے جموں وکشمیرمیں گورنرراج نافذ ہوگیا تھا، جس کی مدت 19 دسمبرکوختم ہوگئی ہے۔ حالانکہ اس دوران نیشنل کانفرنس اورکانگریس کے ساتھ مل کرپی ڈی پی نے کوشش کی تھی، لیکن اس میں وہ اسے کامیابی نہیں ملی تھی کیونکہ گورنرستیہ پال ملک نے اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
      First published: