ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

قرض کے بوجھ تلے دب کر شخص نے گردہ فروخت کرنے کیلئے اخبار میں دیا اشتہار، سماج کے کسی طبقے نے اب تک نہیں کی مدد

جنوبی کشمیر کے ویس۲ قاضی گنڈ علاقے کے ایک ۳۰ سالہ نوجوان سبزوار احمد خان کی ہے۔ سبزوار پیشے سے ایک ٹھیکیدار ہیں جبکہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ساتھ بھی سبزوار منسلک تھے۔ لیکن حالات نے اس قدر کروٹ بدلی کہ سبزار کی ہنستی کھیلتی زندگی بکھر گئی۔

  • Share this:
قرض کے بوجھ تلے دب کر شخص  نے گردہ فروخت کرنے کیلئے اخبار میں دیا اشتہار، سماج کے کسی طبقے نے اب تک نہیں کی مدد
جنوبی کشمیر کے ویس۲ قاضی گنڈ علاقے کے ایک ۳۰ سالہ نوجوان سبزوار احمد خان کی ہے۔ سبزوار پیشے سے ایک ٹھیکیدار ہیں جبکہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ساتھ بھی سبزوار منسلک تھے۔ لیکن حالات نے اس قدر کروٹ بدلی کہ سبزار کی ہنستی کھیلتی زندگی بکھر گئی۔

اننت ناگ: کہتے ہیں کہ قرض ایک لعنت ہے اور قرض کی اگر وقت پر ادائگی نہ ہو تو بڑے بڑے سورما بھی زمین بوس ہوتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال جنوبی کشمیر کے ویس۲ قاضی گنڈ علاقے کے ایک ۳۰ سالہ نوجوان سبزوار احمد خان کی ہے۔ سبزوار پیشے سے ایک ٹھیکیدار ہیں جبکہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ساتھ بھی سبزوار منسلک تھے۔ لیکن حالات نے اس قدر کروٹ بدلی کہ سبزار کی ہنستی کھیلتی زندگی بکھر گئ۔ دراصل سبزار کا کاروبار تاش کے پننوں کی طرح بکھر گیا اور سبزار لگ بھگ کروڑوں روپے کے مالی خسارے سے دوچار ہوے۔ جس کی وجہ سے سبزار پر بینکوں اور دیگر کاروباریوں کا ایک کروڑ کے قریب قرضہ ادا کرنا کافی دشوار بن گیا۔ حالات کے ہاتھوں مجبور سبزار نے قرضے کی ادائیگی کےلئے آخر کار سبزار نے ایسا قدم اٹھایا جسے ہر سو حیرانی اور پریشانی کا عالم برپا ہو گیا۔ سبزار نے قرضوں کی ادائیگی کے لئے اپنا گردہ فروخت کرنے کی ٹھانی اور اس سلسلے میں باضابطہ طور پر انہوں نے ایک مقامی اخبار میں گردہ فروخت کا ایک اشتہار بھی دیا۔ جس کے بعد عوامی حلقوں میں تذبذب پیدا ہو گیا۔

نیوز ۱۸ نے اس حوالے سے جب سبزار خان کے ساتھ رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اپنا واجب الادا قرضہ ادا کرنے سے قاصر ہیں جسکی ادائیگی کے لئے اب وہ اپنا گردہ فروخت کر رہے ہیں اور ضرورت مندوں کےلئے انہوں نے ایک مقامی اخبار میں اشتہار بھی دیا۔ سبزار کا کہنا ہے کہ انہوں نے سماج کے مختلف طبقات اور این جی اوز کے ساتھ بھی رابطہ قائم کیا لیکن انہیں سواے مایوسی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ سبزار نے کہا کہ مدد کی خاطر انہوں نے امید کے ہر دروازے پر دستک دی لیکن اسکے باوجود بھی ہر دروازہ انکے لئے بند کر دیا گیا۔ مایوسی کے عالم میں سواے اپنا گردہ فروخت کرنے کی ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہا۔


واضح رہے کہ ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی جسمانی اعضاء کے خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہے۔ جبکہ آرگن ٹرانسپلانٹیشن کےلئے بھی باضابطہ طور پر مریض کے سگے رشتہ داروں کو قانونی لوازمات کے تحت اپنے اعضاء عطیہ کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن اس پابندی کے باوجود بھی سبزار نے اسطرح کا قدم اٹھایا جسے سماج کے موجودہ نظام میں کافی سوالات کو جنم دیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص سبزار جیسی حالات سے دوچار ہو تو کیا سماج میں اسکا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ جبکہ باہر افراد اور مختلف ذمہ داران کا سماج کے تئیں رول کتنا موثر ہے اسے اس بات کا بھی خلاصہ ہوتا ہے۔

Published by: sana Naeem
First published: Dec 18, 2020 07:14 PM IST