உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بارہمولہ میں بندوق برداروں کے ہاتھوں محکمہ جنگلات کے ملازم کا قتل

    demo pic

    demo pic

    ریاستی پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ لشکر طیبہ کے جنگجوؤں نے گزشتہ رات زانڈ پل میں طارق احمد کے گھر میں داخل ہوکر ان پر گولیاں چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ طارق احمد کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے کنزر ٹنگمرگ میں گزشتہ رات نامعلوم اسلحہ برداروں نے محکمہ جنگلات کے ایک ملازم پر گولیاں چلاکر انہیں ہلاک کردیا۔ مہلوک سرکاری ملازم کی شناخت 38 سالہ طارق احمد ملک ولد ثناء اللہ ملک ساکنہ زانڈپل کنزر ٹنگمرگ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
      ریاستی پولیس نے طارق احمد کی ہلاکت کے لئے لشکر طیبہ کے جنگجوؤں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
      پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ لشکر طیبہ کے جنگجوؤں نے گزشتہ رات زانڈ پل میں طارق احمد کے گھر میں داخل ہوکر ان پر گولیاں چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ طارق احمد کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی۔ پولیس ترجمان نے کہا کہ لاش کو سب ضلع اسپتال ٹنگمرگ لے جایا گیا جہاں قانونی و طبی لوازمات کی ادائیگی کے بعد طارق احمد کی لاش اُن کے ورثاء کے سپرد کی گئی۔
      انہوں نے کہا کہ اس ہلاکت میں لشکر طیبہ کے جنگجوؤں کا ہاتھ ہے۔ ترجمان نے کہا ’پولیس نے واقعہ کی نسبت متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرلیا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہلاکت کے اس واقعہ میں ملوث ایک جنگجو کی شناخت کاووسہ بڈگام کے رہنے والے یوسف ڈار عرف کانترو کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ لشکر طیبہ کے اس جنگجو کی شناخت مقامی لوگوں نے کی ہے۔
      First published: