உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں بیف کی فروخت پر جاری روک دو ماہ کے لئے ہٹا ئی

    نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں بیف کی فروخت پر جاری روک دو ماہ کے لئے ہٹا دی اور اس معاملے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خصوصی بنچ قائم کرنے کی ہدایت بھی دی۔

    نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں بیف کی فروخت پر جاری روک دو ماہ کے لئے ہٹا دی اور اس معاملے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خصوصی بنچ قائم کرنے کی ہدایت بھی دی۔

    نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں بیف کی فروخت پر جاری روک دو ماہ کے لئے ہٹا دی اور اس معاملے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خصوصی بنچ قائم کرنے کی ہدایت بھی دی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں بیف کی فروخت پر جاری روک دو ماہ کے لئے ہٹا دی اور اس معاملے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خصوصی بنچ قائم کرنے کی ہدایت بھی دی۔


      چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی صدارت والی بنچ نے ریاستی حکومت کی دلیلیں سننے کے بعد کہا کہ بیف فروخت پر پابندی کے سلسلے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا حکم دو ماہ کے لئے معطل کیا جاتا ہے۔ عدالت عظمی نے جموں کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی حکومت کے اعتراضات کے لئے تین رکنی بنچ تشکیل دیں۔ جسٹس دتتو نے کہا، "بیف معاملے میں ہائی کورٹ کے دو الگ الگ حکم ہیں، جن کو حل کیا جانا ضروری ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تین رکنی بنچ قائم کر ریاستی حکومت کے مسئلے کو حل کریں گے۔


      قابل ذکر ہے کہ گذشتہ08 ستمبر کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے بیف کی فروخت پر پابندی عائد کردی تھی۔ریاستی حکومت ہائی کورٹ کی جموں و سرینگر بنچوں کے مختلف فیصلوں کی وضاحت کے سلسلے میں عدالت عظمی پہنچی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ہائی کورٹ کے دو الگ الگ حکم ہیں جس سے کشمکش کے حالات بن گئے ہیں۔ ایک پٹیشن پر سماعت کے دوران جموں بنچ نے بیف کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی اور پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس بات کو ذہن میں رکھے کہ حکم پرمکمل طور پر عمل کیا جائے۔
      وہیں، سرینگر کے دو رکنی بنچ نے متعلقہ قانون کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ والی درخواست پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کی تھی۔ریاستی حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا تصفیہ یا تو خودعدالت عظمی کرے یا پھر ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے لئے ایک خصوصی بنچ قائم کر دے۔ ریاستی حکومت اس معاملے میں مختلف احکامات سے پیدا ہوئی کشمکش کے حالات کوواضح کرنا چاہتی ہے۔

      First published: