உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں ۔ کشمیر : ککریال مسلح تصادم میں 3 جنگجو ہلاک ،12سیکورٹی فورسز اہلکار زخمی

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    ضلع ریاسی کے ککریال کٹرہ علاقہ میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ہوئی مسلح جھڑپ میں 3جنگجو مارے گئے جبکہ سیکورٹی فورسز کے 12اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      ضلع ریاسی کے ککریال کٹرہ علاقہ میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ہوئی مسلح جھڑپ میں 3جنگجو مارے گئے جبکہ سیکورٹی فورسز کے 12اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔26گھنٹوں کے زائد عرصہ تک چلے اس مسلح تصادم کے خاتمہ کا اعلان یہاں شام کوجنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)یونیفارم فورس میجر جنرل اروند بھاٹیہ نے کیا۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ’’آپریشن کامیاب رہا، اس میں فوج کی اسپیشل فورس، امدادی دستے، پولیس، ایس او جی، سی آر پی ایف، بم ڈسپوزل کے دستے شامل رہے۔انہوں نے بتایاکہ ’آج صبح آٹھ بجے یہ انکاؤنٹر شروع ہوا تھا جس میں تینوں جنگجومارے گئے ہیں، جن کے قبضہ سے بھاری اسلحہ وبارود ملا ہے۔
      انہوں نے بتایاکہ لمبی گھاس، مکئی کی فصل اور آبادی والے علاقہ کی وجہ سے یہ آپریشن بڑا چیلنج بھرا تھا لیکن انتہائی احتیاط اور حکمت عملی سے انجام دیاگیا جس میں کسی بھی عام شہری زخمی نہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ سب سے بڑا چیلنج کمانڈ اینڈ کنٹرول کاتھاکیونکہ اس میں فوج، سی آر پی ایف اور پولیس اہلکار شامل تھے، خطرہ تھاکہ کہیں اپنے ہی آدمی سے دوسرے ساتھی کو گولی نہ لگ جائے۔
      انہوں نے بتایاکہ آپریشن میں سیکورٹی فورسز کے کل 12اہلکار زخمی ہوئے جن میں پانچ سی آر پی ایف، 4پولیس اور 3فوجی شامل ہیں جن میں ایک افسر ہے، انہیں اسپتال منتقل کیاگیاہے جہاں ان کی حالت خطرہ سے باہر بتائی جاتی ہے۔جی او سی اروند بھاٹیہ نے کہاکہ ان جنگجوؤں کا تعلق لشکرطیبہ سے معلوم ہوتاہے،جن دو افراد کو پولیس نے گرفتار کیاہے ، وہ جنگجوؤں کے بالائی ورکر ہیں اور ایک سال کے اندر قریب20-22جنگجوؤں کو اسی طرح کشمیر لے جاچکے ہیں، مزید اس بارے میں پولیس تحقیقات کریگی اور پورے ماڈیول کا پتہ لگایاجائے گا۔
      آئی جی پی جموں زون ڈاکٹر ایس ڈی سنگھ جموال نے علاقہ کے سویلین کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ان کی مدد سے ایک کامیاب آپریشن رہا، جس گھر میں جنگجوؤں گھس گئے تھے، وہاں سے عام شہریوں کو حکمت عملی سے خالی کرایاگیا۔ انہوں نے بتایاکہ جنگجوؤں کا تعلق جیش محمد تنظیم سے ہے۔ انکاؤنٹر ختم ہونے کے بعد علاقہ میں لوگ نے سیکورٹی فورسز کے حق میں نعرے بھی بلند کئے۔علاقہ میں ابھی بھی تلاشی آپریشن جاری ہے تاکہ کوئی گرنیڈ وغیرہ نہ ہو۔آپریشن بدھ کو جھجرکوٹلی علاقہ سے اس وقت شروع ہوا تھاکہ جب ایک ٹرک میں بیٹھے جنگجوؤں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر کے وہاں سے بھاگے تھے۔
      بدھ کوشام دیرگئے آپریشن بند کردیاگیاتھا جس کو جمعرات کو صبح پھر گاؤں والوں سے سیکورٹی ایجنسیوں کو مصدقہ اطلاعات ملنے کے بعد دوبار ہ شروع کیاگیا، گاؤں والوں نے جنگجوؤں کی ککریال علاقہ میں موجودگی کی اطلاع دی تھی ۔ ایک ایکس سروس مین جس کے گھر میں ایک گھنٹہ تک جنگجوٹھہرے تھے، نے پولیس کو مطلع کیاکہجنگجو بدھ کی شام اس کے گھر آئے، کھانا کھایا اور کپڑے تبدیل کر کے وہاں سے چل نکلے۔
      First published: