ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

گورنمنٹ پرائمری ہیلتھ سینٹر راجگڑھ میں عملے کی کمی کی وجہ سے عوام پریشان حال، طبی سہولت کے نام پر عوام کے ساتھ استحصال

جموں و کشمیر میں حکومت و انتظامیہ کی جانب سے عام عوام کو طبی سہولیات پہنچانے کے وعدے کی زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ پہاڑی ضلع رامبن میں محکمہ صحت کا ڈھانچہ نہایت ہی خستہ حالی کا شکار ہے۔

  • Share this:
گورنمنٹ پرائمری ہیلتھ سینٹر راجگڑھ میں عملے کی کمی کی وجہ سے عوام پریشان حال، طبی سہولت کے نام پر عوام کے ساتھ  استحصال
جموں و کشمیر میں حکومت و انتظامیہ کی جانب سے عام عوام کو طبی سہولیات پہنچانے کے وعدے کی زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ پہاڑی ضلع رامبن میں محکمہ صحت کا ڈھانچہ نہایت ہی خستہ حالی کا شکار ہے۔

جموں و کشمیر میں حکومت و انتظامیہ کی جانب سے عام عوام  کو طبی سہولیات پہنچانے کے وعدے کی زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔  پہاڑی ضلع رامبن میں محکمہ صحت کا ڈھانچہ نہایت ہی خستہ حالی کا شکار ہے۔ عوام کی صحت سے جڑی بنیادی ضرورت طبی سہولت کے نام پر ضلع رامبن میں عوام کے ساتھ جو استحصال ہو رہے، اس کی مثال گورنمنٹ پرائمری ہیلتھ سینٹر  تحصیل راجگڑھ کا  اسپتال ہے۔ تقریباً 30 ہزار سے  زائد افراد اس پرائمری ہیلتھ سینٹر پر منحصر ہیں۔اسپتال کے وجود میں آنے کے وقت سے  یہاں طبی اور نیم طبی عملے کی ہمیشہ قلت رہی ہے۔ ملازمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طبی مرکز میں ڈینٹل سرجن اور ٹیکنیشن کے نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے مہیا کرائی گئی  مشینیں دھول چاٹ رہی ہیں جبکہ اسپتال ٹیکنیشن نہ ہونے کی وجہ سے یہاں قائم لیبارٹری عرصہ دراز سے بند پڑی ہے۔

محکمہ صحت  کی جانب سے ایمرجینسی گاڑی (ایمبولینس) کو شیر کشمیر ایمرجینسی اسپتال بٹوت بھیج دینے کی وجہ  سے گزشتہ دنوں ایک حاملہ خاتون زچہ بچہ سمیت اور محکمہ مال کا پٹواری وقت پر  اسپتال نہ پہنچائے جانے سے لقمہ اجل بن گئے۔وہیں   محکمہ کی  غیر سنجیدگی کی وجہ سے علاقہ کے مریضوں اور تیماداروں کو چھوٹی بیماری کے علاج کے لیے مجبوراً رامبن اور بٹوت کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ عوام کو اسپتال سے ایمبولینس نہ ملنے کی صورت میں نجی گاڑی والوں کو ہزاروں روپے دیکر اسپتال تک پہنچنا پڑتا ہے۔جسکی زندہ مثال راجگڑھ کے چکہ میں آسمانی بجلی گرنے سے شدید طور سے زخمی افراد کو  نجی گاڑی کے زریعے ضلع اسپتال رامبن پہنچایا گیا۔

طبی سہولیت سے محروم لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع رامبن کے راجگڑھ علاقے میں اس وقت کے  نائب وزیر اعلیٰ   ڈی ڈی ٹھاکر کی جانب سے  1977 میں  پرائمری ہیلتھ سینٹر   (PHC) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ تب سے لیکر آج تک محکمہ صحت نے اس علاقے میں قائم اسپتال  میں طبی اور نیم طبی عملے کی کمی کو کبھی پورا نہیں کیا اور یہ غریب عوام کے ساتھ سخت ناانصافی ہیں۔مقامی لوگوں نے اگرچہ کئی بار عرضی لیکر انتظامیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تاہم ان لوگوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔


راجگڑھ کی عوام  نے  چیف میڈیکل آفیسر رامبن سے طبی اور نیم طبی عملے  کی کمی کو جلد  پورا کرنے اور اسپتال کی ایمبولینس کو بٹوت سے واپس پی ایچ سی راجگڑھ لانے  کا پر زور مطالبہ کیا ہے۔نیوز ایٹین اردو نے چیف میڈیکل افسر رامبن  کی نوٹس میں راجگڑھ اسپتال میں عملے کی کمی اور اسپتال کی ایمبولینس  کوبٹوت میں ہونے کا معاملہ نوٹس میں  لایا، تو انہوں نے کہا  کووڈ -19 کے سلسلے میں طبی عملے کی تعیناتی مختلف مقامات پر کی گئی ہے ۔ جس کی وجہ اسپتال میں لوگوں کو مشکلات ہورہی ہیں۔  انہوں نے  یقین دہانی  کرائی کہ وہ ایمبولینس کو واپس راجگڑھ کرنے کیلئے تیار ہے تاہم محکمہ کے پاس  ڈرائیور کی آسامی نہیں ہے اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کمشنر رامبن سے بات کی جاسکتی ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jul 25, 2020 08:16 PM IST