ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں وکشمیر کی جھانکی پر ’اردو‘ میں ریاست کا نام کیوں نہیں، سوشل میڈیا پر بحث

قومی راجدھانی دہلی میں 26 جنوری کو ملک کے 69 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر منعقد ہونے والی مرکزی تقریب میں پیش کی گئی جموں وکشمیر کی جھانکی میں ریاست کی سرکاری زبان ’اردو‘ کی عدم موجودگی کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک پر بحث چھڑ گئی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 27, 2018 03:13 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جموں وکشمیر کی جھانکی پر ’اردو‘ میں ریاست کا نام کیوں نہیں، سوشل میڈیا پر بحث
سوشل میڈیا پر بیشتر لوگ جھانکی پر اردو کی ’عدم موجودگی‘ کے لئے ریاست کی موجودہ پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔: تصویر، یو این آئی۔

سری نگر۔  قومی راجدھانی دہلی میں 26 جنوری کو ملک کے 69 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر منعقد ہونے والی مرکزی تقریب میں پیش کی گئی جموں وکشمیر کی جھانکی میں ریاست کی سرکاری زبان ’اردو‘ کی عدم موجودگی کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک پر بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بیشتر لوگ جھانکی پر اردو کی ’عدم موجودگی‘ کے لئے ریاست کی موجودہ پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ جبکہ بعض لوگوں نے اسے ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی شروعات سے تعبیر کیا ہے۔


ایک سینئر کشمیری صحافی نے معاملے کو سامنے لاتے ہوئے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں جھانکی کی تصویر اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا ’ہمیں ہندی زبان سے بھی محبت ہے۔ لیکن اس سال کے یوم جمہوریہ کی روایتی پریڈ کے لئے جموں وکشمیر کی اس جھانکی سے اردو جو ریاست کی سرکاری زبان ہے، غائب کیوں ہے؟‘۔ یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب میں پیش کی گئی جھانکی جس میں ریاست کی تہذیب، ثقافت، پہناؤ اور خوبصورتی کو دکھایا گیا، میں ریاست کا نام صرف ہندی زبان میں تحریر کیا گیا تھا۔ تاہم سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب میں پیش کی گئی ہر ایک جھانکی پر ریاستوں اور اداروں کا نام ملک کی قومی زبان ہندی میں تحریر کیا گیا تھا۔ تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کی جھانکی سے ’اردو‘ کو جان بوجھ کر غائب کیا گیا ہے۔


ایک فیس بک صارف نے لکھا ’محبوبہ مفتی ریاست کو بھگوا رنگ میں رنگنے پر تلی ہوئی ہیں۔ وہ اقتدار میں بنے رہنے کے لئے کسی بھی حد تک سمجھوتہ کرسکتی ہیں‘۔ ایک صارف نے لکھا ’مقام حیرت ہے کہ ایک طرف اسٹیٹ کونسل برائے فروغ اردو کا اعلان اور بجٹ میں اس کے لئے دو کروڑ مختص کرنے کی بات اور دوسری طرف سالہا سال کی روایت کا خاتمہ!‘۔ ایک اور فیس بک صارف نے لکھا ’کشمیر کی ایک جماعت کے منتخب قانون سازوں نے پورے ریاست کو زعفرانی جماعتوں بشمول بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے حوالے کردیا ہے۔


یہی زعفرانی جماعتیں اب ہماری پسند اور ناپسند کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہم یہ توقع کہاں کرسکتے ہیں کہ اردو کو بخشا جائے گا۔ یہ ریاست کی سرکاری زبان پر اپنی نوعیت کا پہلا وار ہے‘۔ ایک اور صحافی نے لکھا ’سی ایم صاحبہ کو متعلقہ محکمہ سے وضاحت طلب کرنی چاہیے‘۔

First published: Jan 27, 2018 03:13 PM IST