ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی اسمبلی میں جن لوک پال بل پیش، پڑھیں، کیا کیا ہیں خاص باتیں

نئی دہلی۔ بدعنوانی سے موثر طور پر نپٹنے کے لئے دہلی اسمبلی میں آج جن لوک پال بل 2015 پیش کیا گیا جس کے قانون بننے کی صورت میں قصوروار افراد کو زیادہ سے زیادہ عمرقید اور نقصان کے پانچ گنا تک کی تلافی کا التزام ہوگا۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 30, 2015 08:04 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دہلی اسمبلی میں جن لوک پال بل پیش، پڑھیں، کیا کیا ہیں خاص باتیں
نئی دہلی۔ بدعنوانی سے موثر طور پر نپٹنے کے لئے دہلی اسمبلی میں آج جن لوک پال بل 2015 پیش کیا گیا جس کے قانون بننے کی صورت میں قصوروار افراد کو زیادہ سے زیادہ عمرقید اور نقصان کے پانچ گنا تک کی تلافی کا التزام ہوگا۔

نئی دہلی۔  بدعنوانی سے موثر طور پر نپٹنے کے لئے دہلی اسمبلی میں آج جن لوک پال بل 2015 پیش کیا گیا جس کے قانون بننے کی صورت میں قصوروار افراد کو زیادہ سے زیادہ عمرقید اور نقصان کے پانچ گنا تک کی تلافی کا التزام ہوگا۔


اپوزیشن کی غیر موجودگی اور حکمران جماعت کے ’’بھارت ماتا کی جے، وندے ماترم اور انقلاب زندہ باد ‘‘ کے نعروں کے درمیان نائب وزیراعلی منیش سسودیا نے بل پیش کرتے ہوئے اسے تاریخی لمحہ قراردیا اور کہا کہ عام آدمی پارٹی (آپ)کی حکومت بدعنوانی سے نپٹنے کے لئے اپنے پہلے کے وعدوں پر پابند عہد ہے۔ بل کے سلسلے میں ظاہر کئے جانے والے کئی اندیشوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسٹر سسودیا نے اسے ہندوستان کے مستقبل کی امیدوں اور دہلی کو بدعنوانی سے پاک بنانے والا قراردیا۔ بل کی تفصیلات بتاتے ہوئے مسٹر سسودیا نے کہا کہ سال 2011 میں جنتر منتر سے نکلی چنگاری میں بدعنوانی کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی اور میں دہلی کے عوام کو اس بات کا مکمل یقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت بدعنوانی سے کسی بھی طرح سے سمجھوتہ نہیں کرے گی۔


مسٹر سسودیا نے کہا کہ جن لوک پال بل کے قانون بن جانے کی صورت میں یہ قومی راجدھانی کے علاقے میں کسی بھی بدعنوانی کی جانچ اور کارروائی کرنے کے لئے آزاد ہوگا۔اس میں جتنے بھی اہم عہدوں پر بیٹھ کر بدعنوانی کی جائے گی قصوروار پائے جانے پر اتنی ہی سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ عام معاملوں میں چھ ماہ سے دس سال اور خاص معاملوں میں عمر قید تک کی سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ بدعنوانی کی وجہ سے حکومت اور عوام کو جتنا نقصان ہوگا اس کی پانچ گنا تک کی رقم جرمانے کے طور پر وصول کی جائے گی۔ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ انتظامیہ کی زیادتیوں سے بچانے اور اطلاع دینے والے کی شناخت چھپانے کا التزام بھی کیا گیا ہے۔ جھوٹی شکایت کرنے پر بھی سزا کی گنجائش رکھی گئی ہے۔


مسٹر سسودیا نے کہا کہ دہلی اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں شہری ضابطہ اخلاق بل پیش کرنے کے بعد وہ دوسرا اہم بل پیش کررہے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ خود کو قابل فخر محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوک پال آزاد ادارہ ہوگا اور عوام سے شکایت ملنے پر انکوائری کے علاوہ اسے از خود نوٹس لینے کی بھی آزادی حاصل ہوگی اور حکومت بھی اس کی جانچ کی سفارش کرسکے گی۔


دہلی کےنائب وزیراعلی نے کہا کہ جن لوک پال کسی بھی افسر کے خلاف انکوائری کرسکے گا اور چھ ماہ کے اندر جانچ کا کام مکمل کرنا ہوگا۔ بعض خصوصی معاملوں میں اس کی میعاد بارہ ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ جن لوک پال کو مقدمہ چلانے کی بھی آزادی ہوگی اور منظوری کے بعد مقدمے کی کارروائی چھ ماہ کے اندر مکمل کرنی ہوگی۔ غلط طریقے سے کمائی گئی جائداد کو ضبط کرنے، افسر کے تبادلے کے علاوہ لوک پال گاہے بگاہے جائزہ لے گا اور معاملوں کی تعداد کی بنیاد پر عدالتیں قائم کرنے کی اسے پوری آزادی حاصل ہوگی۔

لوک پال کے انتخاب کے لئے اپوزیشن اور عام آدمی پارٹی کےسابق لیڈر پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے احتجاج کا جواب دیتے ہوئے مسٹرسسودیا نے کہا کہ اس میں پوری شفافیت اور غیر جانبدارانہ طریقہ اپنایا گیا ہے۔


لوک پال تین رکنی ہوگا جس میں ایک صدر اور اس کے دو اراکین ہوں گے۔ ان کا انتخاب چار رکنی کمیٹی کرے گی جس میں دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، وزیراعلی، اسمبلی کے اسپیکر اور اپوزیشن کے لیڈر شامل ہوں گے۔ مسٹر سسودیا نے کہا کہ لوک پال ک انتخاب کے عمل کو قطعی کمزور نہیں کیا گیا ہے اس سلسلے میں جو طریقہ اپنایا گیا ہے اس سے زیادہ غیر جانبدار اور ذمہ دار کمیٹی کیا ہوسکتی ہے۔  اس انتخاب کے عمل میں مزید دو اہم شخصیات کو شامل کئے جانے کے مطالبے پر مسٹر سسودیا نے کہا کہ ایسا کرنے سے انتخاب کے عمل کے متاثر ہونے کی گنجائش پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔


نائب وزیر اعلی نے کہا کہ لوک پال مقرر کرنے کے عمل کو جتنا غیر جانب دار بنایا گیا ہے اسے ہٹانے کا عمل اتنا ہی پیچیدہ ہے ۔ جس طرح جج کو ہٹانے کے لئے تحریک ملامت پیش کی جاتی ہے اسی طرح لوک پال کو ہٹانے کے لئے بھی تحریک ملامت پیش کرنی ہوگی۔ دریں اثنا ،موجودہ جن لوک پال بل کے سلسلے میں مسٹر بھوشن اور مسٹر یوگیندر یادو کی قیادت میں بڑی تعداد میں سوراج ابھیان کے کارکنوں نے دہلی اسمبلی کے سامنے مظاہرہ کیا۔ پولس نے بڑی تعداد میں ابھیان کے کارکنوں کو حراست میں بھی لیا۔


مسٹر یادو نے موجودہ جن لوک پال بل کے خلاف اپنی لڑائی کو علامتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل قانون کے لئے طویل لڑائی لڑنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ بل کے مقابلے میں موجودہ بل پوری طرح بدلا جاچکا ہے۔  انہوں نے کہا کہ اروند کیجری وال حکومت بے نقاب ہوچکی ہے۔ جس خواب کا رام لیلا میدان میں جنم ہوا تھا اس کا اسمبلی میں قتل ہوگیا ہے۔ اس نئے بل کے ذریعہ لوگوں کی امیدوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے اور اصل جن لوک پال حاصل کرنے تک ان کی لڑائی جاری رہے گی۔

First published: Nov 30, 2015 08:04 PM IST