ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عینی شاہد کی زبانی سنئے روہتک میں لوٹ ، بربادی اور دہشت کی کہانی

روہتک: جاٹ ریزرویشن کو لے کر ہریانہ سلگ رہا ہے۔ پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے تمام شہر ٹھہر سے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر روہتک ہوا ہے ۔ ایک عینی شاہد دیپک نے بتایا کہ کس طرح روہتک میں مظاہرہ تشدد کی شکل اختیار کرگیا اور غیر سماجی عناصر لوٹ مار کو انجام دے رہے ہیں۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Feb 21, 2016 02:31 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عینی شاہد کی زبانی سنئے روہتک میں لوٹ ، بربادی اور دہشت کی کہانی
روہتک: جاٹ ریزرویشن کو لے کر ہریانہ سلگ رہا ہے۔ پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے تمام شہر ٹھہر سے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر روہتک ہوا ہے ۔ ایک عینی شاہد دیپک نے بتایا کہ کس طرح روہتک میں مظاہرہ تشدد کی شکل اختیار کرگیا اور غیر سماجی عناصر لوٹ مار کو انجام دے رہے ہیں۔

روہتک: جاٹ ریزرویشن کو لے کر ہریانہ سلگ رہا ہے۔ پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے تمام شہر ٹھہر سے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر روہتک ہوا ہے ۔ ایک عینی شاہد دیپک نے بتایا کہ کس طرح روہتک میں مظاہرہ تشدد کی شکل اختیار کرگیا اور غیر سماجی عناصر لوٹ مار کو انجام دے رہے ہیں۔


jat_rohtak6


پڑھئے دیپک کی زبانی روہتک کی كهاني


میری پیدائش روہتک میں ہوئی اور میں نے یہیں پرورش پائی۔ میں نے کبھی بھی اس خوبصورت شہر کو چھوڑ کر نوکری کے لئے دہلی جانے کا نہیں سوچا ، جو کہ محض ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہی ہے۔ یہاں کی زندگی بہت خوبصورت رہی ہے۔ کبھی کبھار کچھ دقتیں پیش آجاتی ہیں ، لیکن تقریبا روہتک اور اس کے ارد گرد کا علاقہ پرامن رہتا ہے۔


جاٹ ریزرویشن کے نام پر یہاں جو ہو رہا ہے ، وہ خوفناک ہے۔ اس سے پہلے میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا، روہتک شہر برباد ہو چکا ہے۔ پرانا بازار برباد کر دیا گیا ہے۔ نئے شاپنگ مال، عمارت، ہوٹل، تعلیمی ادارے ، جو بھوپندر ہڈا کے دور اقتدار میں بنائے گئے تھے، ہجوم نے تباہ کر دئے ہیں ۔ کچھ مال میں تو سب کچھ لوٹ بھی لیا گیا ہے۔


قیادت سے محروم مظاہرین میں مجرمین شامل ہو گئے ہیں اور ریزرویشن کے نام پر دہشت پھیلا رہے ہیں۔ بے روزگار نوجوان اور چھوٹے موٹے مجرمین مظاہرے میں شامل ہیں ، لوٹ مار انجام دے رہے ہیں اور دہشت پھیلا رہے ہیں ۔ لگتا ہے جیسے ریاستی انتظامیہ ہے ہی نہیں۔ قانون دم توڑ چکا ہے۔ پولیس اہلکار اپنی جان بچا کر بھاگ رہے ہیں ، تھانو میں تالے لٹکے ہوئے ہیں۔



میں اور میرے کئی پڑوسی اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارے بچے اور خواتین خوفزدہ ہیں۔ پانی، راشن، ادویات کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ 5 دنوں میں میں نے کچھ خریدنے کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کی، لیکن حالات کی سنگینی کو دیکھ کر اپنے قدم پیچھے کھینچنے پڑے۔


فوج ابھی تک روہتک کے اندرونی حصوں تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ فوج کو مقامی جغرافیہ کا علم نہیں ہے ، جس کی وجہ سے حالات سدھر نہیں رہے ہیں۔


میں اپنے گھر سے ہی شہر میں کئی مقامات پر دھواں اٹھتا دیکھ سکتا ہوں۔ واقعی ڈرانے والے مناظر ہیں۔ میرے ایک تاجر دوست نے کہا کہ بھیڑ کروڑوں کا کیش لوٹ چکی ہے۔ مظاہرہ کے نام پر ڈکیتی کی جارہی ہے۔ جاٹ برادری کے رہنماؤں کو جاٹ برادری کی شبیہ کو بچانے کے لئے سامنے آنا چاہئے۔ ڈاکوؤں کو ریزرویشن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔


مقامی انتظامیہ نہ ہمارے فون کا جواب دے رہی ہے اور نہ کہیں بھیڑ کو قابو کر پارہی ہے۔ موجودہ صورت حال کے لئے صاف طور پر انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ میں سنجیدگی سے کچھ دنوں کے لئے دہلی جاکر رہنے کی سوچ رہا ہوں۔ اگر تشدد بند بھی جاتا ہے ، توبھی روہتک میں معمولات زندگی پٹری پر آنے میں کئی ماہ لگ جائیں گے۔


روہتک اور اس کے ارد گرد کے علاقوں نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا ہوگا، انتظامیہ کہاں ہے؟ کیا وہ اپنی ناکامی کی ذمہ داری لے گی؟ مجھے امید نہیں۔


نوٹ : دیپک اپنا پورا نام نہیں بتانا چاہتے ہیں ، کیونکہ وہ روہتک میں اپنے گھر میں پھنسے ہوئے ہیں ۔

First published: Feb 21, 2016 02:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading