ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جیند: مہاپنچایت کا فیصلہ۔ تینوں زرعی قوانین واپس لے حکومت، گرفتار لوگوں کو رہا کرے

جیند میں منعقدہ کسانوں کی مہا پنچایت میں زرعی قوانین کو واپس لینے کی تجویز پاس کی گئی ہے۔ اس مہاپنچایت میں کسانوں نے سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ نافذ کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس کے علاوہ لاپتہ کسانوں کا پتہ لگانے اور کسانوں پر درج کیس واپس لینے کی مانگ بھی کی ہے۔

  • Share this:
جیند: مہاپنچایت کا فیصلہ۔ تینوں زرعی قوانین واپس لے حکومت، گرفتار لوگوں کو رہا کرے
کسان رہنما راکیش ٹکیت کی فائل فوٹو

جیند۔ ہریانہ کے ضلع جیند میں کسانوں کی مہا پنچایت (Farmers Mahapanchyat) شروع ہو گئی ہے۔ ضلع کے کنڈیلا گاؤں میں ہزاروں کی بھیڑ جٹی ہے۔ بڑی تعداد میں خواتین بھی اس مہاپنچایت میں حصہ لینے پہنچی ہیں۔ مہاپنچایت میں فیصلہ کیا گیا کہ تینوں زرعی قوانین کو حکومت واپس لے اور گرفتار لوگوں کو جلد از جلد رہا کرے۔ جیند کی مہا پنچایت سے راکیش ٹکیت نے مرکزی حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ابھی حکومت سے بل واپسی کی بات کہی ہے، اگر ہم نے گدی واپسی کی بات کر دی تو حکومت کا کیا ہو گا۔ ابھی وقت ہے کہ حکومت سنبھل جائے۔ راکیش ٹکیت نے حکومت کو بیباک انداز میں چیلنج دیا ہے۔


جیند میں منعقدہ کسانوں کی مہا پنچایت میں زرعی قوانین کو واپس لینے کی تجویز پاس کی گئی ہے۔ اس مہاپنچایت میں راکیش ٹکیت موجود ہیں۔ اس مہاپنچایت میں کسانوں نے سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ نافذ کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس کے علاوہ لاپتہ کسانوں کا پتہ لگانے اور کسانوں پر درج کیس واپس لینے کی مانگ بھی کی گئی ہے۔



ٹکیت کے علاوہ کئی کھاپ لیڈران بھی اس مہاپنچایت میں شامل ہوئے ہیں۔ ٹیک رام کنڈیلا نے کہا کہ کسانوں کی تحریک کی حمایت کرنے کے لئے یہ ایک بڑا جماوڑہ ہے۔ تقریبا دو دہائی پہلے ہریانہ میں کسانوں کی تحریک چلانے والی کنڈیلا کھاپ نے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کو اپنی حمایت دی ہے۔ دوسری کھاپ نے بھی تحریک کی حمایت کی ہے۔ ٹیک رام کنڈیلا نے کہا کہ آج کے پروگرام میں زرعی قوانین کو ختم کرنے اور کم از کم امدادی قیمت پر قانونی ضمانت کی مانگ کی جائے گی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Feb 03, 2021 03:35 PM IST