உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نسل پرست ہیں جتن پرساد ، انہیں پہلے ہی پارٹی سے نکال دینا چاہئے تھا : ویرپا موئلی

    نسل پرست ہیں جتن پرساد ، انہیں پہلے ہی پارٹی سے نکال دینا چاہئے تھا : ویرپا موئلی

    سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریسی لیڈر ویرپا موئلی (Veerappa Moily) نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا کہ جتن پرساد جیسے نسل پرست لیڈروں کو تو کافی پہلے ہی پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دینا چاہئے تھا ۔ انہوں نے پارٹی میں صفائی مہم کی بھی وکالت کی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : کانگریس چھوڑنے کے بعد جتن پرساد کیلئے پارٹی کے اندر سے تیکھے رد عمل ظاہر کئے جارہے ہیں ۔ سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریسی لیڈر ویرپا موئلی نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا کہ جتن پرساد جیسے نسل پرست لیڈروں کو تو کافی پہلے ہی پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دینا چاہئے تھا ۔ انہوں نے پارٹی میں صفائی مہم کی بھی وکالت کی ہے ۔

      جب موئلی سے پوچھا گیا کہ کیوں بڑی تعداد میں لیڈران کانگریس چھوڑ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کافی سارے نہیں بلکہ بہت کم ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی سوال جتن پرساد کا ہے ، آپ کو ان کے رویہ کے بارے میں جاننا چاہئے ۔ وہ مرکزی حکومت میں وزیر تھے اور بعد میں الیکشن ہار گئے ۔ میں انہیں بہتر طریقہ سے جانتا ہوں ، کچھ نوجوان لیڈروں کا نسل پرستانہ رویہ اور سیکولر مخالف رویہ پارٹی لائن کے مطابق نہیں ہے ، ہمارے لیڈروں کو یہ سمجھنا پڑے گا اور اب ایسے لیڈرں کو طاقتور پوزیشن نہیں دی جانی چاہئے ۔

      انہوں نے مزید کہا کہ پہلے جتن پرساد کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کا رکن بنایا گیا ، پھر انہیں بنگال الیکشن کی ذمہ داری سونپی گئی ، وہ انتخابی مہم کے درمیان میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ، ایسے لوگ جو اپنی ذمہ داریوں سے بھاگیں ، انہیں فورا پارٹی سے نکال دینا چاہئے ۔

      کیا بنگال کی شکست کیلئے ذمہ دار جتن پرساد کو ٹھہرانا چاہئے کے سوال پر موئلی نے کہا کہ جتن وہاں موجود تھے ، ہوسکتا ہے کہ پوری طریقہ سے نہیں لیکن الیکشن میں صفر کی تعداد پر آنا سوال کھڑے کرتا ہے ۔ جتن سوچتے ہیں کہ وہ ایک بڑے لیڈر ہیں اور پھر ایسے نتائج ، ایسے لیڈروں کو منتخب کرنا ہی غلط ہے ، اس لئے پارٹی میں اوپر سے نیچے تک سرجری کی ضرورت ہے ۔

      صرف سیکولر لیڈروں کو ہی پارٹی میں دی جانی چاہئے جگہ

      تو کانگریس کو صرف سیکولر لیڈروں کو ہی پارٹی میں لینا چاہئے کے سوال پر انہوں نے کہاکہ بالکل ، اس سے تنظیم میں کوالیٹی آئے گی اور سبھی لوگ پرامید ہوں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: