ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے ایم یو معاملہ : گورنر ستیہ پال نے جاوڈیکر اور پروفیسر طارق کے ساتھ فون پر بات کی

گورنر نے پرکاش جاوڈیکر اور پروفیسر طارق سے تلقین کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ معاملہ جلد از جلد حل ہو جائے اور کشمیری طلبا کی تعلیم میں رکاوٹ نہ آئے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 16, 2018 09:07 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اے ایم یو معاملہ : گورنر ستیہ پال نے جاوڈیکر اور پروفیسر طارق کے ساتھ فون پر بات کی
گورنر ستیہ پال ملک: فائل فوٹو

جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے منگل کے روز مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر کے ساتھ بات کی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری طلبا کی بلا خلل پڑھائی کو یقینی بنانے کے لئے اُن کی مداخلت طلب کی ۔گورنر نے اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کے ساتھ بھی اس تعلق سے بات کی ۔ گورنر نے پرکاش جاوڈیکر اور پروفیسر طارق سے تلقین کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ معاملہ جلد از جلد حل ہو جائے اور کشمیری طلبا کی تعلیم میں رکاوٹ نہ آئے اورانہیں ایک پُر امن اور محفوظ ماحول میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔


یہ بات قابل ذکر ہے کہ گورنر انتظامیہ نے پہلے ہی یہ معاملہ اتر پردیش سرکار کے ساتھ اٹھایا ہے ۔ بتادیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم دو کشمیری طالب علموں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جبکہ متعدد دیگر کے نام وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے احاطے میں منان بشیر وانی کے لئے غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیااور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

یونیورسٹی کی کاروائی کے ردعمل میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم 1200 کشمیری طالب علموں نے کیمپس چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کشمیری طالب علموں کے خلاف جاری مبینہ انتقامی کاروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

First published: Oct 16, 2018 09:06 PM IST