ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جنوبی کشمیر کے ترال میں ہانگل کا بڑھتا رجحان وائلڈ لائف کے لئے خوش آئند

  • Share this:
جنوبی کشمیر کے ترال میں ہانگل کا بڑھتا رجحان وائلڈ لائف کے لئے خوش آئند

وادی کشمیرمیں اگر چہ گزشتہ کئی سالوں سے ہانگل کی آبادی کم ہوتی جارہی ہے جس پر ماہرین میں تشویش پائی جاری تھی۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال کے وائلڈ لائف جنگلات کے  شکار گاہ  میں امسال ہانگل کی ایک کثیر تعداد دکھائی دے رہی ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہانگل کی تعداد میں اب آہستہ آہستہ اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ شکار گاہ کے کچھ لوگوں نے نیوز 18کو بتایا کہ خوراک کی تلاش میں یہ جانور سرگرداں نظر آتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہےکہ ان جانوروں نے میوہ باغات کے ساتھ ان کی سبزی کو بھی شدید نقصان پہنچایاہے۔

ترال کے جنگلات ان جانوروں کے لئے ایک محفوظ جگہ ہے اسی سلسلے میں کئی سال قبل حکومت نے ہانگل کے تحفظ کے حوالے سے یہاں ایک ہانگل بریڈینگ سینٹر قایم کیا تھا تاہم ابھی تک اس کو مکمل نہیں کیا گیا ہے جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ وایلڈ لایف کے رینج آفسر اقبال خورشید نے نیوز ایٹین نمایئندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائف سینٹرز و آل انڈیا کی نگرانی میں بریڈینگ سینٹر پر کام کررہا ہے اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اسے مکمل کیا جائے گا۔  رینج آفسر کا کہنا تھا کہ محکمہ کے ملازم ہانگل کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدام کررہی ہے اور غیر قانونی طور شکار کرنے پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔

شکار گاہ اور اس سے ملحقہ دیہات کے لوگوں نے بتایا کہ علاقہ میں ہانگل کی کثیرتعداد موجود ہے جنہیں یہاں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی دیکھاگیا۔ جس پر شکار گاہ کے دامن میں آباد بستیوں میں کافی خوشی پائی جا رہی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ کشمیری ہانگل کی تعداد میں متواتر کئی دہائیوں سے کمی ہورہی ہے۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ شکار گاہ کے جنگلوں کا سلسلہ پہلگام کے آورہ سے ہوکر داچھی گام پارک کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ انسانی مداخلت سے اب یہ ہانگل نزدیکی بستیوں تک غذاکی تلاش میں آتے ہیں۔ ماہرین نے مزیدکہاکہ ہانگل کی موجودگی اچھی خبر ہے تاہم محکمہ جنگلی حیات کوان کے ٹھکانوں پرنظررکھنی چاہیے۔
First published: Jun 19, 2020 07:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading