اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جموں ۔ کشمیر : اسمبلی کو تحلیل کرنے پرمحبوبہ مفتی کا ردعمل کہا، یہ اقدام جمہوریت کے شایان شان نہیں

    محبوبہ مفتی : فائل فوٹو

    محبوبہ مفتی : فائل فوٹو

    محبوبہ مفتی نے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جمہوریت کے شایان شان نہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جمہوریت کے شایان شان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی طرف سے حکومت کی تشکیل کے لئے پیش کیا گیا دعویٰ آئینی جبکہ پیپلز کانفرنس کی طرف سے پیش کیا گیا دعویٰ غیرآئینی تھا۔
      محترمہ مفتی نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے کہا 'راج بھون والے بول رہے تھے کہ ہم فیکس ٹیون دے رہے ہیں لیکن نہیں دے رہے تھے۔ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ ریاستی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت جسے دو جماعتوں کی حمایت حاصل ہوگئی تھی، کی طرف سے حکومت کی تشکیل کے لئے پیش کئے گئے دعوے کو گورنر نے نظرانداز کیوں کیا؟'۔
      انہوں نے کہا 'سجاد لون کے پاس اپنے دو ممبر ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے 25 ہیں۔ وہ باقی اراکین کی بات کرکے ہارس ٹریڈنگ کی بات کررہا تھا۔ ہمارا دعویٰ تو آئینی تھا، جبکہ ان کا دعویٰ غیرآئینی تھا'۔جموں ۔ کشمیر : حکومت بنانے کے دعوے کے منٹوں بعد اسمبلی تحلیل، محبوبہ بولیں ، 26 سال کے کریئر میں ایسا نہیں دیکھا

      جموں ۔ کشمیر : گورنر کے اسمبلی تحلیل کے بعد عمرعبد اللہ بولے محض یہ اتفاق نہیں ہوسکتا محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کرنے کے ساتھ اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اقدام جمہوریت کے شایان شان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا 'میں نہیں جانتی کہ گورنر صاحب نے کیا کیا؟ جمہوریت میں تو یہ چیزیں متوقع نہیں ہیں۔ جمہوریت میں تو آپ کو آئین کے حساب سے چلنا ہے۔ آپ ایک بڑی جماعت سے اس کا حق چھین نہیں سکتے۔ اب ہم آپس میں مل بیٹھ کر بات چیت کریں گے'۔
      First published: