ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں وکشمیر کے نئے نائب و زیراعلیٰ کویندر گپتا نے کٹھوعہ معاملے کو"چھوٹی بات" قرار دیا

جموں وکشمیر کے نائب وزیراعلیٰ کویندر گپتا نے حلف برداری تقریب کے کچھ ہی منٹ کے بعد تنازعہ میں گھرتے نظرآئے۔انہوں نے کٹھوعہ معاملے کو چھوٹی بات قرار دیا۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جموں وکشمیر کے نئے نائب و زیراعلیٰ کویندر گپتا نے کٹھوعہ معاملے کو
جموں وکشمیر کے نائب وزیراعلیٰ کویندر گپتا نے حلف برداری تقریب کے کچھ ہی منٹ کے بعد تنازعہ میں گھرتے نظرآئے۔انہوں نے کٹھوعہ معاملے کو چھوٹی بات قرار دیا۔

سری نگر: جموں وکشمیر کے نائب وزیراعلیٰ کویندر گپتا نے حلف برداری تقریب کے کچھ ہی منٹ کے بعد تنازعہ میں گھرتے نظرآئے۔ دراصل کویندر سے جب نامہ نگاروں نے کٹھوعہ میں 8 سالہ بچی کے ساتھ ہوئی اجتماعی عصمت کے معاملے کو لے کر سوال کیا تو انہوں نے اسے چھوٹا حادثہ قرار دیا۔


ریاست کی محبوبہ مفتی کابینہ میں نمبر دو پوزیشن پانے والے کویندر نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ کٹھوعہ معاملہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔ اس کو اتنا طول نہیں دینا چاہئے۔


وہیں دوسری جانب نامہ نگاروں نے جب گپتا سے اپنی بات واضح کرنے کو کہا تو انہوں نے کہاکہ ہمین یہ یقینی بنانا چاہئے کہ اس  طرح کے حادثے دوبارہ نہ ہو، ہمیں لڑکی (عصمت دری اور اقتل کا شکار) کو انصاف دلانا چاہئے۔ حکومت کے سامنے آج یہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس معاملے کو ہم نے زیادہ ہی طول دے دیا۔


کویندر گپتا کے اس بیان کو لے کر تنازعہ مزید گہرا ہوگیا۔ وہیں اس کے بعد صفائی دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری بات کا غلط مطلب نکالا گیا۔ کٹھوعہ کا معاملہ زیر غور ہے، اب اس پر سپریم کورٹ طے کرے گا، بار بار اس موضوع کو چھیڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو طول دینا اچھی بات نہیں ہے۔ میں نے یہ کہا کہ اس طرح کے معاملے کافی ہیں، جان بوجھ کر اس کو بھڑکانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

واضح رہے کہ جموں وکشمیر کی محبوبہ مفتی حکومت میں نائب وزیراعلیٰ عہدہ کا ذمہ سنبھالنے جارہے 58 سال کے کویندر گپتا اس سے قبل سال 2005 سے 2010 کے درمیان تین بار جموں کے میئر رہ چکے ہیں۔ 2014 میں انہوں نے گاندھی نگر سے پہلی بار اسمبلی الیکشن لڑا اور کانگریس امیدوار کو شکست دی تھی۔ اب تک وہ ریاستی اسمبلی میں اسپیکر کا ذمہ سنبھال رہے تھے۔

 

دراصل جموں وکشمیر کے کٹھوعہ میں 8 سال کی ایک لڑکی سے عصمت دری اور قتل کے ظالمانہ اور وحشیانہ معاملے کو لے کر ملک کے کئی حصوں میں ناراضگی دیکھی گئی تھی۔ اس معاملے کے ملزمین کی حمایت میں ریلی حصہ لینے والے بی جے پی کے دو وزرا لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ حالانکہ تبھی سے اس معاملے کو لے کر بی جے پی دباو میں ہے۔

 

 
First published: Apr 30, 2018 07:57 PM IST