உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر: مزاحمتی قیادت کی جانب سے کولگام ہلاکتوں کی شدید مذمت

    کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کولگام میں کمسن لڑکی سمیت 3نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کولگام میں کمسن لڑکی سمیت 3نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کولگام میں کمسن لڑکی سمیت 3نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے ریڈونی علاقے میں ایک کمسن لڑکی سمیت 3نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو حکومت ہندوستان کی جانب سے کشمیریوں کا قتل عام انجام دینے کے لئے گرین سگنل ملا ہوا ہے۔

      مزاحمتی قیادت کے ایک ترجمان کی طرف سے ہفتہ کی شام یہاں جاری ایک بیان میں کہا گیا ’ گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے دوران خانہ وتھانہ نظر بندی کالے قوانین، افسپا وغیرہ کی آڑ میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں آئے روز ایک مذموم منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کی مہم کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم کشمیریوں کے خون سے سرزمین کشمیر کو لالہ زار بنانے کا عمل جاری ہے ، نہتے شہریوں کابے دردی سے خون بہایا جارہا ہے اور اب فورسز چھوٹے چھوٹے اورکمسنوں کو بھی نشانہ بنا کر اپنی بہادری کا ثبوت فراہم کررہی ہے‘ ۔

      بیان میں کہا گیا ’ ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ فورسز کوحکومت ہند کی جانب سے گرین سگنل ملا ہوا ہے کہ وہ بلا خوف و خطر اور کسی بھی قسم کی جواب دہی کے تصور سے بالا تر ہوکرعسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری جارحیت اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنے والے معصوم کشمیریوں کو بھی سبق سکھانے کے لئے چن چن کر انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں‘ ۔
      مزاحمتی قیادت نے بقول اُن کے کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز کے بہانے ہاوورہ کولگام میں قیامت صغریٰ برپا کرنے کے نتیجے میں ایک کمسن بچی سمیت تین نہتے شہریوں جن میں 16 سالہ کمسن طالبہ عندلیب ،20 سالہ ارشاد احمد لون اور 22 سالہ شاکر احمد کھانڈے شامل ہیں کو راست فائرنگ سے جاں بحق کرنے اور درجنوں پر امن مظاہرین کو شدید زخمی کر دینے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فورسز کارروائیوں کی پر زور مذمت کی ہے ۔

      انہوں نے مہلوکین کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردیوں کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ایک بلند نصب العین کے تحت دی جارہی جانی اور مالی قربانیوں کو کسی بھی قیمت پر فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
      First published: