உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں ۔ کشمیر میں گولی باری میں زخمی ہونے سے 14 سالہ بچی سمیت دو لوگوں کی موت

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    مقامی رپورٹس میں گولی باری کیلئے فوج کو قصورورا ٹھہرایا گیا ہے۔ وہیں سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ انہیں ملیٹنٹوں نے گولی ماری ہے۔

    • Share this:
      جموں ۔ کشمیر میں جمعرات کو فائرنگ کی دو الگ الگ واقات میں ایک نابالغ لڑکی سمیت دو  لوگ مارے گئے ہیں۔ اشفاق احمد غنی ، جمعل کی شام کو کشمیر کے بڈگام ضلع میں ہندستانی فوج کے ایک  کیمپ کے پاس شوٹنگ میں زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سری نگر کے شیری کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس) میں ان کا انتقال ہو گیا۔

      مقامی رپورٹس میں گولی باری کیلئے فوج کو قصورورا ٹھہرایا گیا ہے۔ وہیں سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ انہیں ملیٹنٹوں  نے گولی ماری ہے۔ فوج کے ترجمان راجیش کالیا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چھترمارگ میں فوج کے کیمپ سے 500۔600 میٹر دورر ملیٹنٹوں نے غنی کو گولی مار دی تھی۔

      انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوجی غنی کو چھتر مارگ اسپتال لے گئے جہاں سے ڈاکٹروں نے انہیں سری نگر ٹرانسفر کر دیا۔ بڈگام کے پولیس سپرنٹنڈنٹ تیجندر سنگھ نے کہا ، "ہم حالات کاجائزہ لے رہے ہیں کہ آخر غنی زخمی کیسے ہواتھا'۔ انہوں نے غنی کے موت کی تصدیق کی ہے۔
      First published: