உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکزی جمعیت اہل حدیث کی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ، داعش غیراسلامی اور انسانیت دشمن

    نئی دہلی: : اسلامی ریاست کے داعش اور اس جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی غیر اسلامی اور انسانیت دشمن قرار دیتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے آج یہاں کہا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف امن پسند دنیا کو متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    نئی دہلی: : اسلامی ریاست کے داعش اور اس جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی غیر اسلامی اور انسانیت دشمن قرار دیتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے آج یہاں کہا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف امن پسند دنیا کو متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    نئی دہلی: : اسلامی ریاست کے داعش اور اس جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی غیر اسلامی اور انسانیت دشمن قرار دیتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے آج یہاں کہا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف امن پسند دنیا کو متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی  : اسلامی ریاست کے داعش اور اس جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی غیر اسلامی اور انسانیت دشمن قرار دیتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے آج یہاں کہا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف امن پسند دنیا کو متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
      یہاں رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دو روزہ بین الاقوامی تینتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے جمعۃ کے جنزل سکریٹری مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا کہ آج پوری انسانیت کو مختلف چیلنجوں اور مسائل کا سامنا ہے۔ داعش اور اس جیسی دہشت گردوں نے پوری دنیا کے لیے خطرہ پیدا کردیا ہے۔ وہ اپنی ظلم وبربریت سے ہلاکو اور چنگیز کی جماعت سے ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی تمام صورتوں کے خلاف متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا اور اس ملک میں داعش کو داخل ہونے سے روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا جمعیت اہل حدیث ہمیشہ دہشت گردی مخالف رہی ہے اس میں دہشت گردی کے خلاف سب سے پہلے فتویٰ دیا تھا اور آج بھی اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
      مولانا سلفی نے کانفرنس کے مرکزی موضوع ’’انسانیت کے فروغ اور پر امن معاشرہ کی تشکیل میں ائمہ و خطباء کا کردار اور ان کے حقوق‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’ائمہ کرام صلح وآشتی ، محبت و اخوت کے علمبردار ہیں۔ ائمہ کرام دہشت گردی اور فتنہ وفساد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ائمہ کے ذریعہ دنیا کے پالنہار سے بندوں کا رشتہ استوار کیا جاتا ہے اور مصلحٰن قوم وملت ائمہ مساجد اور خطباء کرام کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلاناہے ۔
      مجلس استقبالیہ کے صدر مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے زندگی کے تمام گوشوں میں ایسی درخشندہ وتابندہ روایات چھوڑی ہیں جو ہماری روشن تاریخ کے سنہرے اوراق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اہل حدیث ایک ایسی تحریک ہر دور میں انسانیت کو مختلف مسائل سے نجات اپنے کے لییے کتاب وسنت کی روشنی میں رہنمائی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا آج ایک منظم سازش کے تحت یہودی لابی اور اس کے زیر اثر میڈیا کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور دہشت پسندی کو اسلام کی طرف منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی جارہی ہے لیکن یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام امن وشانتی کا دین ہے۔ دین خدمت ہے ، اسلام پوری انسانیت کا خیر خواہ ہے اپنے استعماری عزائم کی تکمیل کے لیے اسلام اور مسلمانوں پر غلط الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔
      مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر حافظ محمد یحییٰ دہلوی نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ آج دنیا انتہائی پر آشوب دور سے گزر رہی ہے ، عدم رواداری اور عدم تحمل کا ماحول تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ہم مسلمانوں کی خاموشی نیز دی ن اسلام کی خوبیوں کو غیروں تک نہ پہنچانے کا نتیجہ ہے کہ یہ فتنے ہمارے دروازوں پر دستک دینے لگے ہیں اور اسلام کی شبیہ کو بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایسی کسی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا جس سے امن عالم کو خطرہ ہو۔ اسلام جوڑنے کا کام کرتا ہے توڑنے کا نہیں۔ داعش ، القاعدہ، حزب اللہ، بوکو حرام اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی سرگرمیاں و کارروائیاں اسلامی شریعت میں حرام اور مجرمانہ کام ہیں۔ ہم ان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔
      آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے صدر مولانا عمیر الیاسی اتنے بڑے پیمانے پر کانفرنس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہہ ہمارا مقصد اتحاد ، ہم سب ایک ہیں۔ ہماری شناخت جو ٹوپیوں اور پگڑیوں سے ہے اس کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کی خالص تعلیمات کے ذریعہ ہونی چاہئے۔ ہمارے قائدین اپنی پہچان پر توجہ دیتے ہیں جب کہ اسلامی تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے۔
      محمد احمد قاضی کلچرل اٹیچی سفارت خانہ مصر نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ مساجد امن وشانتی کی علامت ہیں۔ نازک حالات میں ائمہ و خطباء کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے ہر طقبہ کے ساتھ روابط بڑھانے ور حسن اخلاق کا مظاہر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہم پر فرض ہے اور ہم اسلام دشن عناصر کو سمجھائیں کہ اسلام خیر خوا ہ ہے، اسلام ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ملک میں مختلف مسائل کے ازالہ میں ائمہ وخطباء اہم رول ہمیشہ ادا کرتے رہے ہیں۔ ائمہ کرام کے لیے میراناصحانہ مشور ہے کہ وہ شخص بن کر نہ جئیں بلکہ شخصیت بن کر رہیں۔ کیوں کہ شخص مرجاتا ہے اور شخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
      کانفرنس سے مولانا محمد علی مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہلحدیث بہار، جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر کے ناظم مولانا شمیم احمد ندوی، جامعہ سلفیہ بنارس کے ناظم مولانا عبداللہ سعود سلفی، حافظ عتیق طیبی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی، ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی، شیخ فیصل عبدالقادر صحراوی ، دبئی اور دکتور سلیمان الغصن وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔

      First published: