உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اجودھیا تنازع : مولانا سید ارشد مدنی نے کیس کو کثیر رکنی بینچ کے حوالے کرنے کے موقف کی تائید کی

    جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو۔

    جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو۔

    اجودھیا تنازعہ کی سماعت آج دو پہر دو بجے چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ میں سماعت ہوئی ۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئروکیل راجو رام چندرن نے بحث کی

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : اجودھیا تنازعہ کی سماعت آج دو پہر دو بجے چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ میں سماعت ہوئی ۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئروکیل راجو رام چندرن نے بحث کی ۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے وکلاء کی بحث پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا ہے بلکہ اس موقف کی تائید بھی کی ہے کہ اس معاملہ کو ایک کثیر رکنی بینچ کے حوالہ کیا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم قانون اور عدلیہ پر مکمل اعتمادرکھتے ہیں ۔
      مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ بلاشبہ اس مقدمہ سے مسلمانوں اور ملک کے تمام انصاف پسند لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں ، اس لئے فریق مخالف کے وکیل کا یہ کہنا سراسر غلط بات کہ اب یہ معاملہ زیادہ اہمیت کاحامل نہیں رہا ۔انہوں نے کہا کہ معاملہ کی اہمیت آج بھی اتنی ہی ہے جتناکہ روز اول تھی ، اس لئے کہ یہ تنہا ایک مسجد کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے سیکولر اور جمہوری کردارسے جڑا ہوا معاملہ ہے ۔
      قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیراور جسٹس بھوشن شامل ہیں نے کے روبرو جمعیۃ علماء کی جانب سے راجو رام چندرن نے بحث کی جبکہ ہندو فریقین کی جانب سے ایڈوکیٹ ہریش سالوے، ایڈوکیٹ مہاجن ، ایڈوکیٹ ششیل جین و دیگر نے کی۔ آج کی کارروائی کے بعد عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 15 مئی تک ملتوی کردی ۔
      First published: