உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جے این یو نے کنہیا ، عمرخالد  اور انربان کے اگلے سمسٹر میں جانے پر لگائی روک

    فیصلے سے متاثر ہونے والے طالب علم آشوتوش نے کہا کہ یہ ہائی کورٹ کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے ، جس نے یونیورسٹی کو ہمارے خلاف کارروائی کرنے سے روکا ہوا ہے ۔

    فیصلے سے متاثر ہونے والے طالب علم آشوتوش نے کہا کہ یہ ہائی کورٹ کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے ، جس نے یونیورسٹی کو ہمارے خلاف کارروائی کرنے سے روکا ہوا ہے ۔

    فیصلے سے متاثر ہونے والے طالب علم آشوتوش نے کہا کہ یہ ہائی کورٹ کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے ، جس نے یونیورسٹی کو ہمارے خلاف کارروائی کرنے سے روکا ہوا ہے ۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی کیمپس میں نو فروری کو ہوئے متنازعہ پروگرام سے جڑے طالب علموں سے متعلق ایک نئی پیش رفت میں جے این یو انتظامیہ نے اگلے سمسٹر کے لئے ان طالب علموں کے رجسٹریشن پر روک لگا دی ہے ۔  21 طالب علموں کی اس فہرست میں جے این یو طالب علم یونین کے صدر کنہیا کمار ، عمر خالد اور انربان بھٹاچاریہ کے نام بھی شامل ہیں ۔

      خیال رہے کہ ان تین طالب علموں کو غداری کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا ۔ پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گورو کی برسی کے موقع پر منعقد کئے گئے پروگرام کے دوران مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے بازی کی گئی تھی ۔

      طالب علموں کے نام والے سرکلر پر جے این یو کے رجسٹرار کا تبصرہ درج ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگلے نوٹس تک ان طالب علموں کا رجسٹریشن روکا جاتا ہے ۔ جہاں یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعات کو لے کر کچھ نہیں کہا، وہیں متاثرہ طالب علموں نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔

      فیصلے سے متاثر ہونے والے طالب علم آشوتوش نے کہا کہ یہ ہائی کورٹ کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے ، جس نے یونیورسٹی کو ہمارے خلاف کارروائی کرنے سے روکا ہوا ہے ۔
      First published: