ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جے این یو تنازعہ: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور پولیس سے جواب طلب کیا

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ احاطے میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار، صحافیوں، دیگر طلبہ اور اساتذہ پر ہوئے مبینہ حملے کے معاملے میں مرکزی حکومت اور دہلی پولیس سے چار مارچ تک جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 27, 2016 01:20 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جے این یو تنازعہ: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور پولیس سے جواب طلب کیا
نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ احاطے میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار، صحافیوں، دیگر طلبہ اور اساتذہ پر ہوئے مبینہ حملے کے معاملے میں مرکزی حکومت اور دہلی پولیس سے چار مارچ تک جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ احاطے میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار، صحافیوں، دیگر طلبہ اور اساتذہ پر ہوئے مبینہ حملے کے معاملے میں مرکزی حکومت اور دہلی پولیس سے چار مارچ تک جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔ جسٹس جے چلمیشور اور جسٹس ابھے منوہر سپرے کی بینچ نے معروف سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی اس پٹیشن پر سماعت کے بعد  یہ حکم دیا جس میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ احاطے میں کچھ وکلاء کی طرف سے کنہیا، صحافیوں،طلبہ اور اساتذہ پر ہوئے مبینہ حملے کی تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم (ایس آئی ٹی)کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


عدالت نے انصاف کے عمل میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالنے اور سپریم کورٹ کے 17 فروری کو دیئے گئے احکامات کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کرنے والے تین وکلاء وکرم سنگھ چوہان، یشپال سنگھ اور اوم شرما کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ انہیں بھی چار مارچ کو جواب دینا ہوگا۔ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے کیمرے میں مبینہ طور پر کنہیا،صحافیوں، طلباء اور پروفیسروں کی پٹائی کرتے ہوئے یہ تینوں وکلاء نظر آر ہے ہیں۔


اس معاملے پرمسٹر بھوشن نے مسٹر چوہان، مسٹر سنگھ اور مسٹر شرما کے خلاف کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ مسٹر بھوشن نے عرضی میں کیس کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کئے جانے کی مانگ کی تھی۔ اسی عدالت نے اس معاملے میں تینوں وکلاء کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت کی توہین کرنے اور ان کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

First published: Feb 27, 2016 01:17 PM IST