உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    "تقابلی ادب: نظریہ و تطبیق " کے عنوان پر جے این یو میں دو روزہ بین الاقوامی ویبنار کا انعقاد

    "تقابلی ادب: نظریہ و تطبیق " کے عنوان پر جے این یو میں دو روزہ بین الاقوامی ویبنار کا انعقاد

    "تقابلی ادب: نظریہ و تطبیق " کے عنوان پر جے این یو میں دو روزہ بین الاقوامی ویبنار کا انعقاد

    پروگرام کے آغاز میں پروفیسر رضوان الرحمن صدر شعبہ عربی نے ہندو بیرون ہند سے شریک ہوئے شرکاء کے لئے خیر مقدمی کلمات پیش کئے، جبکہ ویبینار ڈائریکٹر ڈاکٹر عبید الرحمن طیب نے تقابلی ادب کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے تمام مقررین اور ادباء کا تعارف پیش کیا جو مصر اور سعودی عرب کی مختلف یونیورسیٹیوں سے وابستہ ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ مرکز برائے مطالعات عربی و افریقی جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی نے کیرالا یونیورسٹی کے اشتراک سے "تقابلی ادب:نظریہ و تطبیق " کے موضوع پر 22 اور 23 اگست 2020 کو"دو روزہ عالمی ویبنار کا انعقاد زوم پلیٹ فارم پر کیا۔ اس عالمی ویبنار میں ہندوستان کے علاوہ سعودی عرب مصر، یمن، عرب امارات، الجیریا، نائجیریا ، انڈونیشیا و بنگلہ دیش غیرہ سے متعدد دانشوروں اور پروفیسروں نے حصہ لیا۔ پروگرام کے آغاز میں پروفیسر رضوان الرحمن صدر شعبہ عربی نے ہندو بیرون ہند سے شریک ہوئے شرکاء کے لئے خیر مقدمی کلمات پیش کئے، جبکہ ویبینار ڈائریکٹر ڈاکٹر عبید الرحمن طیب نے تقابلی ادب کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے تمام مقررین اور ادباء کا تعارف پیش کیا جو مصر اور سعودی عرب کی مختلف یونیورسیٹیوں سے وابستہ ہیں اور اسی طرح ویبینار کے موضوع کی غرض و غایت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔

      اسکول آف لینگویج کے ڈین پروفیسر سید عین الحسن نے تقابلی ادب کا مختصرا تعارف پیش کیا اور اس عنوان پر معاصر علماء اور محققین کے نام اور ان کی تحقیقات پر روشنی ڈالی۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جگدیش کمار نے افتتاحی خطاب پیش کیا اور انہوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں ویبینار کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبید الرحمن طیب اور ان کی پوری ٹیم کی تقابلی ادب: نظریات اور تطبیق کے موضوع پر اس ویبینار کے منعقد کرنے پرحوصلہ افزائی کی اور مبارکباددی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقابلی ادب کا مطالعہ انسان کو مزید جدت پسند بناتا ہے اور اس کے ذہنی افق کو وسیع کرتا ہے۔

      اس عالمی ویبنار میں ہندوستان کے علاوہ سعودی عرب مصر، یمن، عرب امارات، الجیریا، نائجیریا ، انڈونیشیا و بنگلہ دیش غیرہ سے متعدد دانشوروں اور پروفیسروں نے حصہ لیا۔


      مصر کی عین شمس یونیورسیٹی کے کلیۃ الآداب کے پروفیسر ابراہیم عوض نے اپنے لیکچر میں تقابلی ادب کے مختلف مکاتب فکر اور ان کے درمیان فکری اختلافات کو اجاگر کیا۔ قاہرہ یونیورسیٹی کے عربک ڈپارٹمنٹ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر سامی سلیمان احمد نے جدید عربی ادب میں تقابلی لٹریچرکا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کے فروغ میں مختلف علماء و ادباء کے کردار کو بیان کیا۔ ڈاکٹر سامی رفیق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اردو انگریزی کے منتخب افسانوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح دو زبانوں کے ادب کے درمیان تقابل کیا جائے۔

      عالمی ویبینار کے دوسرے روز بھی تین مقررین نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا۔ سب سے پہلے مصر کی عین شمس یونیورسٹی کے شعبہ عربی کی پروفیسر محترمہ ڈاکٹر جہاد محمود عواض نے نوال سعداوی اور لیلیانا جورووچ کے فن پاروں کا موازنہ کیا۔ مصر کی الفیوم یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے پروفیسر ڈاکٹر ایہاب المقرانی نے غوایۃ الناسک کا ادب و تاریخ کی روشنی میں جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایک ہی قصہ مختلف تہذیبوں کے پس منظر میں لکھا جاتا ہے تو اس کے نتائج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ عالمی ورچوول کانفرنس کا آخری لیکچر الباحۃ یونیورسٹی سعودی عرب کے شعبہ عربی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عبد اللہ الغامدی نے پیش کیا۔ انہوں نے اصطلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ موازنہ، مقارنہ اور تساقی میں فرق ہونا چاہئے۔ انہوں نے تساقی پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تساقی مقارنہ سے آگے کی چیز ہے جہاں قوموں اور ملتوں کے درمیان تاثیر اور تاثر کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

      ویبینار میں ہند اور بیرون ہند کی مختلف یونیورسیٹیوں کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ویبینار میں ترجمہ کے فرائض پروفیسر مجیب الرحمن نے انجام دئیے اورڈاکٹر محمد اجمل کے کلمات تشکر کے ساتھ اس کا اختتام ہوا۔ اس بین الاقوامی ویبینار کو ڈاکٹر سندیشہ رائپا،ڈاکٹر سونو سینی، ڈاکٹر محمد اجمل اور ڈاکٹر تاج الدین المنانی نے کوآرڈینیٹ کیا اور سینٹر کے ریسرچ اسکالرز صادق الطاف، بلال احمد، ریحان انصاری ، عارف ، غلام حیدر وغیرہ نے رضاکار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: